Partnership and Mutalabah

· 20 Dhuʻl-Qiʻdah 1438 AH2 min readFatwa 38524Urdu

Question

اسلام علیکم. جناب کیا فرماتے هیں علماء کرام مندرجه زیل مسئله کے بارے میں. جناب میرا ایک دوست کے ساتھ شراکت داری په مبنی کاروبار تھا. هم سافٹ وئر اور ویب سائٹس بناتے تھے. میرا دوست مارکیٹ سے پروجیکٹ لیتا تھا اور میں وه کام مکمل کر کے دیتا تھا. هماری شراکت برابر برابر کی تھی. اس دوران میں پراجیکٹ مکمل کرتا گیا اور پیمینٹ میرا دوست وصول کر لیتا. کیونکه میرے دوست کی مالی حالات درست نهیں تھے اس لیے وه مجھے میرا حصه نهیں دیتا تھا . یوں اس په میرا تقریبا ایک لاکھ تینتیس هزار کا قرض چڑھ گیا. اس کی مالی حالت کی وجه سے کافی عرصه میں نے مطالبه نهیں کیا. لیکن ساتھ ساتھ میں اس سے تفصیل لیتا رهتا که کھاتوں کی کیا پوزیشن هے. اس دوران هم نے چند پروجیکٹ مکمل کئے بغیر هی واپس کر دئے اور جو ایڈوانس لیا تھا وه واپس کر دیا کسٹمر کو. کچھ عرصی بعد چند وجوه کی بنا پر میرے دوست نے شراکت داری ختم کر دی. تب میں نے اپنی رقم کا مطالبه کیا تو میرا دوست کهنے لگا که یه رقم آپ کی نهیں بنتی کیونکه اپ نے تین پراجیکٹ مکمل نهیں کئے تھے اور آپ کی وجه سے همیں یه رقم واپس کرنی پڑی. وه پراجیکٹ اگر هم مکمل کرتے تو همیں دو لاکھ بائیس هزار ملتے چونکه تم نے پراجیکٹ مکمل نهیے کئے اس لیے بجاےاس کے که میں اپ کو رقم دو اپ مجھے رقم دیں گے. حالانکه پراجیکٹس په میں نے کافی کام کیا تھا. لیکن کچھ کسٹمر کی وجه سے کچھ هماری وجه سے پراجیکٹ واپس هوے. اس طرح میرے دوست کی مارکیٹ میں محنت ضائع هوئی اور میر ا پراجیکٹ په وقت. اب اپ بتائیں کیا میرے دوست کا رقم واپس نه کرنا صحیح هے اور کیا میرا رقم کا مطالبه درست هے.?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

References (sources)

اگر آپکا سوال حقیقت حال کے مطابق ہے تو جواب ظاہر ہے .جو پروجیکٹ مکمّل ہو چکا اور پیمنٹ مل گیا وہ عقد کے مطابق دونو ں شریکوں کا ہے .لہذا اس حاصل شدہ پیمنٹ میں آپکا بھی حصّہ ہے،بعد کے پروجیکٹ کے مکمّل ہونے یا نہ ہونے کا اعتبارنہیں ہے.[i]

[i] و إذا إشترك ألرجلان في عمل بأيديهما فارادا............ويعمل كل واحد منهما في ذلك برايه،فما رزقهماالله تعالى في ذالك من شي فهو بينهما نصفين [كتاب الشركة،الأصل للإمام محمد مجلد ٤ صفحة ٥٠دار ابن حزم]

Checked & approved by
Mufti Ebrahim Desai
Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa Mahmudiyyah. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.

People also ask

How should profit and loss be shared in a partnership?

“The arrangement in the queried scenario is not permissible. In a partnership, the expenses are first settled from the income accrued. The nett profit will then be divided between the two partners on a 50/50 basis, since they…”

Ibn Masood · 132 fatawa from 7 Darul Iftas on this

What the Darul Iftas say