مساجد کے ائمہ کو زکوٰۃ دینے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #131Urdu

Question

ہمارے علاقہ میں لوگ اپنی مسجدوں میں امام رکھتے ہیں، اور امام کی تنخواہ مقرر نہیں کرتے بلکہ فصل پکنے کے بعد ان کو اناج وغیرہ زکوٰۃ میں سے دیتے ہیں، اگر امام مستحق زکوٰۃ ہو تو کیا زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟ کیا یہ اجرت نہیں ہے؟ زکوٰۃ بطورِ اجرت دی جا سکتی ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں زکوٰۃ دینے کی دو صورتیں ہیں: (۱) مسجد کا امام زکوٰۃ کا مستحق ہو تو اس کو غریب ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ دینا یہ درست بلکہ افضل ہے ۔
(۲) امام کو امامت کی اجرت میں زکوٰۃ دی جائے، اس صورت میں زکوٰۃ ادا نہ ہو گی، اگر چہ امام کے لئے تنخواہ کے طور پر لینا جائز ہوگا ۔
مذکورہ بالا صورتوں سے قطع نظر کرتے ہوے افضل اور بہتر یہ ہے کہ امام کے لئے اجرت مقرر کی جائے پھر بظاہر گزارہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو صدقات و زکوٰۃ بھی دیا کریں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

التصدق على الإمام الفقير أفضل، وفي الشامي: أي من الجاهل الفقير
۔
(الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۵٤، سعيد)
۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

لو نوى الزكاة بما يدفع المعلم إلى الخليفة ولم يستأجره إن كان الخليفة بحال لو لم يدفعه يعلم الصبيان أيضاً أجزأه، وإلا فلا
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۰، باب المصارف)
۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
امام مسجد جب غریب ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ہاں اجرت و معاوضہ کی صورت میں جائز نہیں ۔ اور جو ائمہ مساجد اغنیاء نہ ہوں تو ان کو یہ صدقات واجبہ اگر امامت کے عوض میں دیے جائیں تو دینے والوں کا ذمہ فارغ نہیں ہوا ۔ اور اگر امامت کی وجہ سے اور امامت کے صلہ میں دیے جائیں تو بلا شک و شبہ جائز ہے ۔
والمتعارف هو الإعطاء له على وجه الترحم، والصلة ولذا ينوي المعطون الثواب والتقرب إلى الله، والأجير لا يكون كذلك، وبالجملة أن منع الإعطاء مطلقاً خراب نظام أكثر المساجد
۔
(
فتاوی فریدیہ: ۳/۵۳۷، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۴۰۱) ۔
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
اگر یہ معروف و مشہور ہے کہ لوگ امام کو زکوٰۃ و عشر دیا کرتے ہیں، اور امام مذکور بھی اس غرض سے ان کی امامت کرتا ہے کہ یہ لوگ اسے زکوٰۃ دیا کریں گے اور اگر وہ نہ دیں تو وہ امامت چھوڑ کر ہی چلا جائے گا گویا عقد اجارہ نہ تو صحیح ہوا ہے اور نہ فاسد، لیکن بہرحال کالعقد ضرور ہے، کیوں کہ یہ لوگ اسے زکوٰۃ نہ دیں تو یہ امامت چھوڑ جائے گا، اس صورت میں گو احتیاط اس میں ہے کہ پہلے کچھ مال بطور ہدیہ کہ امام کی خدمت میں پیش کر دے اور بعد میں مالِ زکوٰۃ و عشر وغیرہ دے، کیوں کہ اس صورت میں کسی قسم کا عقد نہیں ہوا ہے، اس لئے لوگوں کے ذمہ اسے کچھ دینا واجب نہیں، تو زکوٰۃ اجرت میں شمار نہ ہو گی اس لئے ادائیگی صحیح ہو گی ۔ اور اگر کسی قسم کا عقد نہیں ہوا ہے، لوگ اگر زکوٰۃ نہ دیں یا کم دیں تب بھی امامت کرتا ہے، صرف اس نے اس امامت کو زکوٰۃ و عشر دیے جانے کے لئے وسیلہ بنایا ہے، بس اتنی سی بات ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر امامت نہ کروں گا تو لوگ زکوٰۃ و عشر نہ دیں گے، ایسے امام کو بلا شبہ دینا جائز ہے اور زکوٰۃ ادا بھی ہو گی، جس کے نظائر کتبِ فقہ میں بکثرت موجود ہیں ۔ اور اگر امامت محض للہ کرتا ہے، زکوٰۃ و عشر ملنے کی طمع نہیں ہے تو بطریق اولیٰ لینا دینا جائز ہوگا ۔ (فتاوی مفتی محمود پاکستان: ۳/۳۳۴ ۔ ۳۳۶، و فتاوی دار العلوم: ۶/۲۱۳، مدلل و مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.