ہوائی جہاز سے رؤیتِ ہلال کا حکم:

6 min readFatwa Vol 3 #163Urdu

Question

اگر کوئی شخص ہوائی جہاز سے پرواز کر کے چاند دیکھے اور زمین پر کسی کو نظر نہ آئے تو محض ہوائی جہاز کی رؤیت کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟

Answer

اگر کسی شخص نے ہوائی جہاز سے پرواز کر کے چاند دیکھا اور زمین پر کسی کو نظر نہیں آیا تو محض ہوائی جہاز کی رؤیت شرعاً معتبر نہیں، لیکن اگر ہوائی جہاز زیادہ بلندی پر نہ ہو اور کوئی شخص جہاز میں بیٹھے ہوے چاند دیکھ لے تو اس کی رؤیت مقبول ہو گی، کیوں کہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص خارج مصر، یا کسی اونچی جگہ سے چاند دیکھے تو اس کی رؤیت مقبول ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی ہندیہ میں ہے:

وذكر الطحاوي أنه تقبل شهادة الواحد إذا جاء من خارج المصر وكذا إذا كان على مكان مرتفع كذا في الهداية، وعلى قول الطحاوي اعتمد الإمام المرغيناني وصاحب الأقضية والفتاوى الصغرى. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۸، الباب الثاني في رؤية الهلال).

فتاوی قاضی خان میں ہے:

وإن جاء الواحد من خارج المصر وشهد برؤية الهلال ثمة روي أنه تقبل شهادته وإليه أشار في الأصل، وكذا لو شهد برؤية الهلال في المصر على مكان مرتفع. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱۹٦، الفصل الاول رؤية الهلال).

در مختار میں ہے:

أو كان على مكان مرتفع واختاره ظهير الدين

. وفي الشامي: قلت:

وفي المبسوط وإنما يرد الإمام شهادته إذا كانت السماء مصحية، وهو من أهل المصر فأما إذا كانت متغيمة أو جاء من خارج المصر أو كان في موضع مرتفع فإنه يقبل عندنا اه. فقوله عندنا يدل على أنه قول أئمتنا الثلاثة وقد جزم به في المحيط وعبر عن مقابله بقيل، ثم قال وجه ظاهر الرواية أن الرؤية تختلف باختلاف صفو الهواء وكدورته وباختلاف انهباط المكان وارتفاعه، فإن هواء الصحراء أصفي من هواء المصر، وقد يري الهلال من أعلي الأماكن مالا يري من الأسفل فلا يكون تفرده بالرؤية خلاف الظاهر، بل على موافقة الظاهر ففيه التصريح بأنه ظاهر الرواية، وهو كذلك لأن المبسوط من كتب ظاهر الرواية أيضاً. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۸۸، كتاب الصوم، سعيد. وكذا في إمداد الفتاح: ص ٦۷۰، بيروت)

اسلامی فقہ میں ہے:
جب مطلع صاف ہو تو چاند دیکھنے میں کسی تکلیف کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر مطلع غبار آلود یا بدلی ہو یا ایسا شہر ہو جہاں دس منزلہ اور بیس منزلہ مکان ہی مکان ہوں تو وہاں اگر دور بین سے یا ہوائی جہاز سے چاند دیکھنے کی کو شش کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ اس کا انتظام اسلامی حکومت کرے یا کوئی باقاعدہ قابل اعتماد افراد کریں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جس ڈگری پر عام طور پر وہاں چاند کی رؤیت ہوتی ہو اس سے زیادہ اونچائی سے نہ دیکھا گیا ہو یعنی جیسے ہوائی جہاز کو بہت اونچا نہ اڑایا گیا ہو اس لیے کہ چاند کبھی غروب نہیں ہوتا وہ کہیں نہ کہیں تو دکھائی دیتا ہی ہے، اس لیے اس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ (اسلامی فقہ ۱/۳۸۲، نئے آلات کے ذریعہ) ۔
آلاتِ جدیدہ میں مرقوم ہے:
شرط یہ ہے کہ ہوائی پرواز اتنی اونچی نہ ہو جہاں تک زمین والوں کی نظریں پہنچ ہی نہ سکیں کیوں کہ شرعاً رؤیت وہی معتبر ہے کہ زمین پر رہنے والے اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ سکیں، اس لیے اگر بیس تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر کے کوئی شخص چاند دیکھ آئے تو اس بستی کے لیے وہ رؤیت معتبر نہیں جس کے عام انسان باوجود مطلع صاف ہونے کے اس کو نہیں دیکھ سکتے ۔ (آلات جدیدہ کے شرعی احکام، ص ۱۸٦، کتب خانہ قاسمی دیوبند) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
اگر خبر دینے والے شاہدین ہوائی جہاز سے دیکھ کر طریقہ موجب کے ساتھ جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے خبر یا شہادت دیں تو حسب ضابطہ شرعی اعتبار کر لیا جائے گا اور اس طرح وہ خبر یا شہادت بھی معتبر و مقبول ہو سکتی ہے ۔ (منتخبات نظام الفتاوی: ص ۲۲۹، اصلاحی کتب خانہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
مطلع ابر آلود ہو تو گمان غالب کافی ہے، لہذا ایسی صورت میں ہوائی جہاز یا دور بین کے ذریعہ رؤیت معتبر ہونی چاہیے، بشرطیکہ ہوائی جہاز کے ذریعہ پرواز اتنی اونچی نہ کی گئی ہو کہ مطلع بدل جائے ۔
چنانچہ مجلس تحقیقاتِ شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تجویز (۷) اس طرح ہے:
"ہوائی جہاز سے اتنی بلندی پر اڑ کر چاند دیکھنا جس سے مطلع متأثر ہوتا ہو معتبر نہیں ہے اور شریعت نے اس کا مکلف بھی نہیں کیا ہے، فقہی کتابوں میں جہاں اونچی جگہوں پر چڑھ کر چاند دیکھنے کا تذکرہ ہے، اس سے مراد وہ اونچائی ہے جو عموماً شہروں میں ہوا کرتی ہے تاکہ مکانوں اور درختوں کی بلندی افق کو دیکھنے میں حائل نہ ہو خواہ وہ کسی ذریعہ سے ہو، لہذا ہوائی جہاز سے اس قدر اونچائی پر پہنچ کر اگر چاند دیکھا جائے جس سے مطلع بدل جاتا ہے تو وہاں کی زمین والوں کے لیے معتبر رؤیت نہیں قرار پائے گی" ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۲٤، نعیمیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: امداد المفتین جلد دوم، ص ٤۸۱-٤۸۳ بذریعہ ہوائی جہاز رویت ہلال کا حکم، دار الاشاعت، و ایضاح المسائل، ص ۸۰، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.