۳۰ روزے ختم ہونے کے بعد چاند نظر نہ آنے پر عید کا حکم:

6 min readFatwa Vol 3 #173Urdu

Question

اگر رمضان المبارک کے ۳۰ دن پورے ہونے کے بعد مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہ آئے تو عید ہو گی یا نہیں؟

Answer

اگر ایک آدمی کی گواہی سے چاند کا ثبوت ہوا تھا اور ۳۰ روزے گزرنے کے بعد بھی چاند نظر نہیں آیا تو صحیح قول کے مطابق آئندہ کل عید نہیں ہو گی، بلکہ روزہ رکھنا ضروری ہوگا، اس وجہ سے کہ گواہی خلاف ظاہر ہو کر مردود ہوئی ۔
اور اگر دو آدمیوں کی گواہی سے ثابت ہوا تھا تو فتاوی ہندیہ میں صحیح یہ لکھا ہے آئندہ کل عید ہو گی ۔ اور علامہ شامی رحمه الله نے بھی اسی کو شامی میں ذکر فرمایا ہے، لیکن البحر الرائق اور تنقیح الفتاوی الحامدیہ (جو کہ شامی کے بعد کی تصنیف ہے) کی عبارات کی روشنی میں ہندیہ کا قول مرجوح ہے، کیوں کہ علامہ ابن نجیم رحمه الله اور علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا کہ ایک سے زائد آدمیوں نے گواہی دی پھر ۳۰ دن کے بعد آسمان صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہیں آیا تو یہ گواہی شہادتِ زور قرار دی جائے گی اور آئندہ کل روزہ رکھنا ضروری ہوگا، نیز ہندیہ کا قول اس حدیث کے بھی خلاف ہے کہ مہینہ یا ۲۹ کا ہوگا یا ۳۰ کا ہوگا، جب ۳۰ دن گزر گئے اور آسمان صاف ہے اور چاند نظر نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہینہ ۳۱ کا ہو گیا حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا، اس لیے مختار قول یہ ہے کہ سابقہ شہادت صحیح نہیں تھی ۔
مذکورہ بالا مسئلہ اس وقت ہے جب کہ ۳۰ روزے ختم ہونے کے بعد مطلع صاف ہو اور چاند نظر نہ آئے لیکن اگر مطلع ابر آلود ہے صاف نہیں ہے اور چاند دکھائی نہیں دیا تو بالاتفاق عید کرنا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإذا صاموا بشهادة الواحد وأكملوا ثلاثين يوماً ولم يروا هلال شوال لا يفطرون فيما روى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله للاحتياط، وعن محمد رحمه الله أنهم يفطرون كما في التبيين، وفي غاية البيان قول محمد رحمه الله أصح، قال شمس الأئمة: هذا الاختلاف فيما إذا لم يروا هلال شوال والسماء مصحية، فأما إذا كانت متغيمة فإنهم يفطرون بلا خلاف كذا في الذخيرة وهو الأشبه، هكذا في التبيين، وإذا شهد علي هلال رمضان شاهدان والسماء متغيمة وقبل القاضي شهادتهما صاموا ثلاثين يوماً فلم يروا هلال شوال إن كانت السماء متغيمة يفطرون من الغد بالاتفاق وإن كانت مصحية يفطرون أيضاً على الصحيح. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۸).

اسی طرح در مختار میں مذکور ہے:

وبعد صوم ثلاثين بقول عدلين حل الفطر لوجود نصاب الشهادة، ولو صاموا بقول عدل حيث يجوز وغم هلال الفطر لا يحل على المذهب خلافاً لمحمد رحمه الله كذا ذكره المصنف لكن نقل ابن الكمال عن الذخيرة أنه إن غم هلال الفطر حل اتفاقاً وفي الزيلعي الأشبه إن غم حل وإلا لا. وفي الشامي: قوله وفي الزيلعي نقله لبيان فائدة لم تعلم من كلام الذخيرة وهي ترجيح عدم الفطر إن لم يغم شوال بظهور غلط الشاهد لأن الأشبه من ألفاظ الترجيح، لكنه مخالف مما علمته من تصحيح غاية البيان لقول محمد بالحل نعم حمل في الإمداد ما في غاية البيان على قول محمد رحمه الله بالحل إذا غم شوال بناء على تحقيق خلاف الذي نقله المصنف رحمه الله، وقد علمت عدمه وحينئذٍ فما في غاية البيان في غير محله لأنه ترجيح لما هو متفق عليه. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۹۱، سعيد).

لیکن علامہ شامی نے تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں اس کے خلاف تحریر فرمایا ہے، ملاحظہ ہو :

شهادة الزور لا تعلم إلا بالإقرار ولا تعلم بالبينة (أقول) قد تعلم بدون الإقرار كما إذا شهد بموت زيد أو بأن فلاناً قتله ثم ظهر زيد حياً، وكذا إذا شهد برؤية الهلال ومضي ثلاثون يوماً وليس في السماء علة ولم ير الهلال ومثله هذا كثير. (تنقيح الفتاوى: ۱/۳٤۱).

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۰ دن گزرنے کے بعد آسمان صاف ہونے کے باوجود چاند دکھائی نہ دے تو سابقہ شہادت زور کہلائے گی اور اکتیسواں روزہ رکھنا ضروری ہوگا ۔
نیز یہ بھی جاننا چاہیے کہ تنقیح الفتاوی رد المحتار کے بعد لکھی ہے چنانچہ مقدمہ میں فرماتے ہیں:

وزدت مالا بد منه من نحو استدراكه أو تقييده أو فيه تقوية وتأييد ضاماً إلى ذلك أيضاً بعض تحريرات نقحتها في حاشيتي على البحر المسمات "منحة الخالق علي البحر الرائق" وحاشيتي التي علقتها على شرح التنوير المسماة "رد المحتار على الدر المختار". (مقدمة تنقيح الفتاوى: ۱/۲).

لہذا عدم افطار والا قول راجح ہوگا، نیز اسی کے موافق علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے بھی البحر الرائق میں تحریر فرمایا ہے:
ملاحظہ فرمائیں البحر الرائق میں ہے:

قوله ومن أقر أنه شهد زوراً يشهد ولا يعزر وقيد بإقراره لأنه لا يحكم به (أي بالزور) إلا بإقراره وزاد شيخ الإسلام أن يشهد بموت واحد فيجيء حياً كذا في فتح القدير وجعل في إيضاح الإصلاح نظير مسألة ظهوره حياً بعد الشهادة بموته أو قتله ما إذا شهدوا برؤية الهلال فمضى ثلاثون يوماً وليس في السماء علة ولم يروا الهلال. (البحر الرائق: ۷/۱۲٦، كوئته).

بحر کی عبارت میں
"شهدوا"
جمع کا صیغہ ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ تنقیح میں
"شهد"
کا لفظ مجہول ہے یعنی ایک کی گواہی سے یا چند کی گواہی سے رمضان ثابت ہوا ہو پھر بھی شہادت زور قرار دی جائے گی اور اکتیسواں روزہ رکھنا ضروری ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.