معتکف کا غسلِ جمعہ کے لیے نکلنے کا حکم:
Question
ایک شخص معتکف ہے، کیا وہ جمعہ کے دن سنت غسل کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
اس مسئلہ میں اکابر رحمه الله کے دو گروہ ہیں بعض کے نزدیک نکلنا درست نہیں ہے مثلاً مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله، مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله، مفتی فرید صاحب وغیرہ ان حضرات کے مستدلات شامی، بدائع وغیرہ کتب ہیں ۔
ملاحظہ ہو بدائع میں ہے:
وما روي عن النبي ﷺ من الرخصة في عيادة المريض وصلاة الجنازة
. ويجوز أن تحمل الرخصة على ما إذا كان المعتكف خرج لوجه مباح كحاجة الإنسان أو للجمعة، ثم عاد مريضاً أو صلي جنازة من غير أن كان خروجه لذلك قصداً وذلك جائز. (بدائع الصنائع: ۲/۱۱٤، سعيد. وكذا في شامي: ۲/٤٤۵، سعيد. وإمداد الأحكام: ۲/۱٤۲. وفتاوى محموديه: ۱۰/۲٤۳، مبوب ومرتب. وفتاوى فريديه: ٤/۱۹۷).
دیگر بعض حضرات کے نزدیک سنت غسل کے لیے نکلنا جائز ہے ۔ مثلاً شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله، مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله اور مولانا خالد سیف اللہ وغیرہ ۔
ملاحظہ ہو اشعۃ اللمعات میں ہے:
وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة الإنسان
اما غسلِ جمعہ، روایتے صریح دراں از اصول نمی یا بم، جز آنکہ در شرح امداد گفتہ است کہ: بیروں می آید برائے غسل، فرض باشد یا نفل ۔ (اشعۃ اللمعات: ۲/۱۲۰، مجددیہ)۔
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ غسل جمعہ کے بارے میں کوئی صریح روایت کتب فقہ میں نہیں ملی، سوائے اس کے کہ شرح امداد میں لکھا ہے کہ معتکف باہر نکل سکتا ہے غسل کے لیے چاہے فرض ہو یا نفل ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
وضو اور غسل خواہ فرض ہو یا نفل اس کے لیے مسجد سے نکلنے کا جواز دلائل ذیل سے ثابت ہے:
(۱)
نقل في المتانة عن فتاوى الحجة: ويجوز لمعتكف أن يخرج من المسجد في سبعة أشياء: البول، والغائط، والوضوء، والاغتسال، فرضاً كان أو نفلاً، والجمعة، يخرج أيضاً لحاجة السلطان، ويخرج أيضاً لا مر لا بد، ثم يرجع بعد ما فرغ من ذلك الأمر سريعاً. (المتانة في مرمة الخزانة: ۳۷۸).
(۲) نقل الرواية المذكورة عن فتاوى الحجة: المخدوم محمد قاسم التتوي رحمه الله تعالى في بياضه المعروف بالبياض الهاشمي.
(۳) ونقلها العلامة العثماني رحمه الله عن الإكليل عن الخزانة عن فتاوى الحجة. (أحكام القرآن: ۱/۱۹۰).
(٤) قال المخدوم التتوی رحمہ اللہ فی حیات الصائمین: دہم: از حاجتِ شرعیہ وضوء و اغتسال است، پس جائز است معتکف را خروج از مسجد برائے آں، اگر چہ فرض باشد یا نفل، کذا فی المضمرات، و الفتاوی الحجۃ، و التاتارخانیۃ و کنز العباد و متانۃ الروایات ۔ (
الفتاوى المحمد يه: ۲/۸۰، للمفتي محمد الهالائي السندي).
(۵)
وفي مضمرات الأنوار: يجوز للمعتكف الخروج للبول والغائط والوضوء والاغتسال فرضاً كان أو نفلاً. (
حوالہ مذکورہ بالا) ۔
(٦) اشعۃ اللمعات کی عبارت جو پہلے ذکر کی جا چکی ۔
فتاوی الحجہ، متانہ، خزانہ، بیاض ہاشمی، الاکلیل، احکام القرآن، حیات الصائمین، مضمرات، فتاوی تاتارخانیہ، کنز العباد، فتاوی محمودیہ، مظہر الانوار اور اشعۃ اللمعات ۱۳ کتابوں میں یہ مسئلہ بلا تردد منقول ہے، اگر چہ ان میں بعض کتابیں غیر معروف ہیں، اور خزانۃ الروایات و کنز العباد کی مولانا عبد الحی رحمه الله نے النافع الکبیر میں تضعیف فرمائی ہے، مگر دوسری کتب معروف و معتبر ہیں، پھر اتنے علماء و اہل فتوی جن میں مخدوم ٹھٹوی رحمه الله جیسے جلیل القدر فقیہ بھی ہیں، ان سب کا بلا ان کار و بلا ذکر اختلاف، نقل کرنا مستقل دلیل ہے، علاوہ ازیں قول "الدر المختار"
"وحرم عليه الخروج إلا لحاجة الإنسان"
کے تحت علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں: "
ولا يمكث بعد فراغه من الطهور". (شامي ۲/٤٤۵، سعيد)
یہاں طہور سے نفل وضو متبادر ہے، اور غالباً اس کے لیے جواز خروج سے مخالف کو بھی ان کار نہیں، بعض نے وضو للصلاۃ النافلۃ اور وضو نفل میں فرق کیا ہے، اول کے لیے جواز خروج اور ثانی کے لیے عدم جواز کو ہے، یہ فرق غیر معقول ہونے کے علاوہ شامیہ کے جزئیہ مذکورہ کے بھی خلاف ہے، پس نفل وضو کو حوائج اصلیہ میں شمار کرنے اور نفل غسل کو شمار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ (ملخص از احسن الفتاوی: ٤/۵۰۳)۔
خلاصہ یہ ہے کہ معتکف جمعہ کے دن سنت غسل کے لیے نکل سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1132
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1132