سفر حج میں شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت کے لیے حج کا حکم:
Question
اگر کسی عورت کا شوہر سفر حج میں انتقال کر جائے تو عدت کیسے گزارے گی، نیز حج کرے گی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مکہ مکرمہ اور وطن دونوں میں جو قریب ہو وہاں واپس لوٹ جائے، اور وہیں عدت گزار لے، وہاں سے نہ نکلے، اور حج کے ایام میں اگر محرم ساتھ ہو تو صاحبین کے مذہب کے مطابق حج کر سکتی ہے، اس زمانہ میں اگر صاحبین کے مذہب کو جائے تو درست ہے ۔
ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں ہے:
وأما شرائط وجوب الأداء فخمسة على الأصح
الخامس عدم عدة عليها مطلقاً سواء كانت من طلاق بائن أو رجعي أو وفات
فإن حجت وهي في العدة جازت بالاتفاق وكانت عاصية والعدة أقوي في منع الخروج من عدم المحرم حتى منعت ما دون السفر فإن لزمتها في السفر
فإن كان إلى كل من بلدها ومكة أقل من مدة السفر تخيرت أو إلى أحدها سفر دون الآخر تعين أن تصير إلى الآخر أو كل منهما سفر فإن كانت في مصر قرت فيه إلى أن تنقضي عدتها ولا تخرج وإن وجدت محرماً عند أبي حنيفة رحمه الله، وقالا: لها أن تخرج إذا وجدت محرماً وإن كانت في قرية أو مفازة لا تأمن على نفسها ومالها فلها أن تمضي إلى موضع آمن فلا تخرج عنه حتى تمضي عدتها وإن وجدت محرماً عنده خلافاً لهما. (غنية الناسك في بغية المناسك: ۱۲، شرائط وجوب الأداء، إدارة القرآن. وكذا في ارشاد الساري إلى مناسك الملا علي القاري: ٦٤، بيروت).
زبدۃ المناسک میں ہے کہ اگر حج نہ کرے گی تو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، لہذا معذور سمجھی جائے گی اور حج کرنا جائز ہوگا ۔ (ملخص از زبدۃ المناسک: ۳٦، واجب ادا ہونے کی چوتھی شرط، مکتبہ اشرفیہ) ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
موجودہ زمانہ میں اپنے ملک کی حدوں سے نکلنے کے بعد مکہ سے پہلے قانونی مشکلات کی وجہ سے نہ قیام ممکن ہوتا ہے اور نہ سفر سے واپسی آسان ہوتی ہے، پھر قافلہ حج میں بڑی تعداد میں خواتین ہوتی ہیں ان کے ساتھ کسی خاتون کے رہنے میں فتنہ کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اس لیے اگر ہندوستان سے نکلنے کے بعد شوہر کی وفات ہو گئی تو سفر حج مکمل کر لینے کی گنجائش ہونی چاہیے، اور امام شافعی رحمه الله کی اس رائے کو اختیار کرنا چاہیے کہ اگر رفقائے سفر میں کچھ ثقہ خواتین بھی موجود ہوں تو عورت محرم کے بغیر بھی ان کے ساتھ سفر حج کر سکتی ہے ۔
يجوز لها الحج إذا خرجت في رفقة ومعها نساء ثقات لحصول الأمن بالمرافقة. (الهداية مع الفتح: ۲/٤۲۰) (
جدید فقہی مباحث: ۱۳/۱۳۵، ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1146
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1146