جدہ میں چند گھنٹے رکنا ہو تو بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #287Urdu

Question

اگر کسی شخص نے ارادہ کر لیا کہ چند گھنٹے جدہ میں رک جائے گا، پھر حرم شریف میں داخل ہوگا تو بغیر احرام کے میقات سے گزر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی اس کا جدہ سے احرام باندھنا صحیح ہوگا یا دم لازم ہوگا؟

Answer

بصورتِ مسئولہ چونکہ ہوائی جہاز میقات کے اوپر یا اس کی محاذات میں سے گزرتا ہے، لہذا میقات کی محاذات سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے، اگر کسی نے جدہ میں ایک دن یا چند گھنٹے ٹھہرنے کی نیت کر لی اور جدہ تک احرام کو ٹال دیا تو ایسا کرنا درست نہیں، بلکہ ایک حیلہ ہے، حیلہ ضرورت کے وقت حرام یا مکروہ سے بچنے کے لیے کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا حیلہ جس سے ایک حکم شرعی باطل ہو جائے، درست نہیں، یہ یوم سبت والوں کے حیلہ کی طرح ہے، جس پر قرآن کریم میں سخت وعید موجود ہے، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمه الله نے معارف القرآن: ۷/۵۲۳، پر تحریر فرمایا ہے، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اس قسم کے حیلے اس وقت جائز ہوتے ہیں جب کہ انھیں شرعی مقاصد کے ابطال کا ذریعہ نہ بنائے ۔
باقی یہ بات کہ جو شخص یہاں سے مدینہ منورہ جا کر وہاں سے عمرہ کا ارادہ کر کے احرام باندھ لے، یہ کوئی حیلہ نہیں، ایک تو اس وجہ سے کہ مدینہ منورہ کا سفر بذاتِ خود مقصود ہے بلکہ مدینہ میں دو مقاصد ہیں، (۱) مسجد نبوی،
كما قال النبي ﷺ لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد

الخ. (
۲) آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت ہے،
كما روي عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من زار قبري وجبت له شفاعتي". (رواه ابن خزيمة في صحيحه والدارقطني والبيهقي وآخرون وإسناده حسن كما في آثار السنن للعلامة النيموي ص
۳۳۹
)
اور اگر بالفرض مدینہ منورہ کو مقصود نہ بنائیں، بلکہ فقط عمرہ یا حج فقط مقصود ہو تو بھی اس کا حاصل یہ ہوگا کہ یہ شخص مکہ مکرمہ براستہ مدینہ جانا چاہتا ہے اور میقات سے نکلنا چاہتا ہے، تو اس کے راستہ میں دو میقات پڑیں گے، ایک ابعد من مکہ اور دوسرا اقرب الی مکہ، اور ایسا شخص اقرب الی مکہ میقات کو اختیار کر سکتا ہے، کما ہو مذکور فی کتب الفقہ ۔
اور فقہاء کرام نے جو مسئلہ تحریر فرمایا ہے کہ اگر حل میں کسی جگہ کا ارادہ کیا تو احرام کے بغیر جا سکتا ہے، یہ حیلہ اس شخص کے لیے کارآمد ہے جسrاقعی اس جگہ کا ارادہ ہوا ول درجہ میں ۔
كما قال العلامة الشامي: لكن لا تتم الحيلة إلا إذا كان قصده لموضع من الحل قصداً أولياً كما قررناه. (الشامي: ۲/٤۷۷، سعيد).

بہرحال اس اہم اور پاکیزہ سفر میں اس قسم کے حیلوں سے بچنا چاہیے، اگر کبھی کسی حنفی ڈرائیور کو روزانہ آنا پڑتا ہو اور عمرہ کا موقعہ نہیں مل سکتا ہو تو واقعی یہ مسئلہ قابل غور ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.