ڈرائیور اور ایجنٹ وغیرہ کے لیے بغیر احرام کے میقات تجاوز کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #290Urdu

Question

کیا ایجنٹ اور ڈرائیور وغیرہ کے لیے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے حرج ہے ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایجنٹ اور ڈرائیور حضرات اگر روزانہ بار بار جاتے ہیں تو ان کے لیے احرام باندھنا ضروری نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے، لیکن جو حضرات بار بار نہیں جاتے مثلاً ایجنٹ لوگ عامۃً روزانہ نہیں جاتے لہذا ان کے لیے احرام باندھنا ضروری ہوگا ۔
ملاحظہ ہو "نئے مسائل اور علماء کے فیصلے" میں مذکور ہے:
موجودہ حالات میں جب کہ تجار، دفاتر میں کام کرنے والے، ٹیکسی چلانے والے، اور دیگر پیشہ ورانہ کام کرنے والے کبھی ہر روز کبھی دوسرے تیسرے دن، اور بعض لوگوں کو تو ایک دن میں ایک سے زیادہ دفعہ حرم میں داخل ہونا پڑتا ہے، ایسی حالت میں اس طرح کے لوگوں کو ہر بار احرام اور ادائے عمرہ کی پابندی بے حد مشقت طلب اور دشوار ہے، اس لیے ان حضرات کے لیے بغیر احرام باندھے حدودِ حرم میں داخلہ کی گنجائش ہو گی ۔ (نئے مسائل اور علماء ہند کے فیصلے: ۳۷، از حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی) ۔
عمدۃ القاری میں ہے:

قال أبو عمر: لا أعلم خلافاً بين فقهاء الأمصار في الحطابين ومن يدمن الاختلاف إلى مكة ويكثره في اليوم والليلة أنهم لا يأمرون بذلك لما عليهم فيه من المشقة. (عمدة القاري: ۷/۵۳۵، باب دخول الحرم ومكة بغير إحرام، دار الحديث ملتان).

ہدایہ میں ہے:

من كان داخل الميقات له أن يدخل مكة بغير إحرام لحاجته لأنه يكثر دخوله مكة وفي إيجاب الإحرام في كل مرة حرج بين. (الهداية: ۱/۲۳۵، فصل في المواقيت).

جدید فقہی مباحث میں ہے:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کل کے زمانہ میں کاروباری لوگوں کو کثرت کے ساتھ بار بار آنے اور جانے کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً اہل مکہ کو بار بار مدینہ جانا پڑتا ہے اور اہل مدینہ کو بار بار مکہ مکرمہ اپنے کاروبار کے لیے جانا پڑتا ہے تو اگر ان پر ہر مرتبہ احرام باندھ کر عمرہ کا حکم لگایا جائے گا تو شدید مشقت اور حرج لازم آ جاتا ہے تو ان کے لیے شرعی طور پر کوئی رعایت اور گنجائش ہو سکتی ہے یا نہیں؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ مہینے دو مہینے میں آتے جاتے ہیں ان کے حق میں تو کوئی گنجائش نہ ہو گی، البتہ جو لوگ روزانہ یا ہر ہفتہ آتے جاتے ہیں ان لوگوں کے لیے بلا احرام میقات سے گزرنے کے دو طریقے ہم کو نظر آتے ہیں: ۔
طریقہ دوم: حضرت عبد اللہ ابن عباس رضي الله عنه کی روایت ہے کہ میقات کے باہر سے لکڑیاں لانے والے اور عمال اور تجار اور کمانے والے جو بار بار جاتے آتے ہیں ان کے لیے بلا احرام میقات سے گزرتے رہنے کی اجازت ہے ۔
ا س لیے کہ اگر ہر بار ان پر احرام کی پابندی لگائی جائے گی تو سخت مشقت کا خطرہ ہے، مصنف ابن ابی شیبہ اور نخب الافکار وغیرہ میں ابن عباس رضي الله عنه کی روایت اس طرح کے الفاظ سے مروی ہے:

عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: لا يدخل أحد مكة إلا بإحرام إلا الحطابين والعمالين وأصحاب منافعهما، الحديث. (نخب الأفكار قلمي: ۵/۲۱۹، مصنف ابن أبي شيبة: ٤/۲۱۱، طحاوي شريف من عطاء: ۱/٤۳۸، تلخيص الحبير: ۱/۲۱۱. (
جدید فقہی مباحث: ۱۳/۱٦۱، ۳۵، ۳۷، ادارۃ القرآن) ۔
اس سلسلے میں مقالہ نگاروں کی دو رائیں ہیں، بیشتر حضرات نے ضرورت، حاجت شدید ہ اور مشقت کی وجہ سے جمہور ائمہ کے مسلک کو راجح قرار دیتے ہوے بغیر احرام کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی ہے، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ۔ مولانا مصلح الدین بڑودوی ۔
مولانا زبیر احمد قاسمی ۔ مولانا عزیز اختر قاسمی ۔
مولانا محبوب علی وجیہی ۔ مولانا عتیق احمد قاسمی ۔
مولانا جمیل احمد نذیری ۔ مولانا عبد القیوم پالن پوری ۔
مولانا اسعد اللہ قاسمی ۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی ۔
مولانا اشتیاق احمد اعظمی ۔ مولانا ابرار خان ندوی ۔
مولانا محمد ابرار الحق قاسمی ۔ مولانا محمد نور قاسمی ۔
مولانا ثناء الہدی قاسمی ۔ مولانا ابو سفیان مفتاحی ۔
مولانا صدر عالم قاسمی ۔ مولانا خورشید احمد اعظمی،
مولانا منظور احمد قاسمی ۔ مولانا عبد المفتاح عادل ۔
مولانا اختر ضیاء قاسمی ۔ مولانا محمد عمر فلاحی ۔
(جدید فقہی مباحث: ۱۳/۱۹، تلخیص از مقالات بابت حج و عمرہ، ادارۃ القرآن) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: جدید فقہی مسائل: ۲/۱۸۲، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.