حالتِ حیض میں عمرہ ادا کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #304Urdu

Question

ایک عورت عمرہ کیلیے جانا چاہتی ہے اور اس کا قیام مکہ مکرمہ میں صرف ٦ دن ہے وہ فی الحال مدینہ منورہ میں ہے لیکن اس کو معلوم ہے کہ اس کا حیض دس دن تک رہتا ہے نیز وہ اپنے اہل خانہ سے علیحدہ بھی نہیں رہ سکتی ہے، اور اہل خانہ عمرہ کے لیے جار ہے ہیں، سفر کی ترتیب بدلنا بھی انتہائی مشکل ہے، اب یہ عورت کیا تدبیر اختیار کرے اور عمرہ کس طرح ادا کرے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں وہ عورت اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ جائے اور پاک ہونے کے بعد عمرہ کرے، اور اگر واپسی تک پاکی کی کوئی شکل نہ نکل س کے اور مجبوری کی وجہ سے حالتِ حیض میں عمرہ کر لیا تو دم واجب ہوگا، اور یہ دم حرم کے ساتھ خاص ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ولو شوطاً جنباً أو حائضاً أو نفساء أو محدثاً فعليه شاة لا فرق فيه بين الكثير والقليل والجنب والمحدث، لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة. (فتاوى الشامي: ۲/۵۵۱، سعيد. وكذا في اللباب مع شرحه: ۳۹۰، بيروت).

البحر الرائق میں ہے:

قوله أو طاف لعمرته وسعي محدثاً ولم يعد، أي تجب شاة لتركه الواجب وهو الطهارة، قيد بقوله ولم يعد، لأنه لو أعاد الطواف طاهراً فإنه لا يلزمه شيء لارتفاع النقصان بالإعادة، ولا يؤمر بالعود إذا رجع إلى أهله لوقوع التحلل بأداء الركن مع الحلق والنقصان يسير، وما دام بمكة يعيد الطواف، لأنه الأصل

ولو قال المصنف محدثاً أو جنباً لكان أولى، لأنه لا فرق بين الحدثين في طواف العمرة. (البحر الرائق: ۳/۲۲، كوئته).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.