عقد نکاح کے بعد دعا میں "وبارك عليك" کا مطلب:
Question
نکاح کی دعا میں "
بارك الله لك وبارك عليك"
کہتے ہیں، اس میں علیک کا کیا مطلب ہے؟ اور علیک اور لک میں کیا فرق ہے؟ بظاہر تو علیک ضرر کے لیے آتا ہے ۔
Answer
بارک اللہ لک میں لام فائدہ اور آسانی کے لیے ہے یعنی آپ کو آسانیوں اور راحتوں میں برکت عطا فرمائے ۔ اور علیک کے ساتھ دوبارہ بارک کو ذکر فرمایا تاکہ نکاح میں سرور شہر کے بعد غموم دہر کی طرف اشارہ ہو یعنی جو مشقتیں آپ پر آنے والی ہیں اور ان کا آنا یقینی ہے کیوں کہ سرور شہر کے بعد غموم دہر ہوتا ہے، لہذا ان مشقت والے کاموں میں اللہ تعالی برکتیں عطا فرمائیں، نکاح میں سرور کی لذتوں کے بعد نان نفقہ بیوی کے
مطالبات اولاد کی تربیت، تعلیم وغیرہ، آدمی کی آزادی کے بعد پابندی، یہ سب وہ مشقتیں ہیں جو ناقابل ان کار ہیں، دعا میں ان مشقتوں میں بھی خیر اور نفع اور بہتر مستقبل کی طلب ہے، ایسی جامع اور بہتر دعا سینہ نبوت ہی سے برآمد ہو سکتی ہے ۔
ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن النبي ﷺ كان إذا رفأ الإنسان إذا تزوج قال: "بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير". (رواه أبو داود: ۱/۲۹۰).
قال المناوي: "بارك الله لك" في زوجتك، "وبارك عليك" أي أدخل عليك البركة في مؤنتها ويسرها لك وأعاد العامل لزيادة الابتهال. (فيض القدير: ۱/٤۰٦).
وفيه أيضاً: وقال أولاً بارك الله لأنه المدعو إصالة أي بارك الله لك في هذا الأمر، ثم ترقي منه ودعا لهما وعداه بعلى لأن المدار عليه في الذراري والنسل لأنه المطلوب بالتزوج وحسن المعاشرة والموافقة والاستمتاع بينهما على أن المطلوب الأول النسل وهذا تابع. (فيض القدير: ۵/۱۷٦).
وفي المرقاة: وبارك عليكما بنزول الخير والرحمة والرزق والبركة في الذرية وجمع بينكما في خير أي في طاعة وصحة وعافية وسلامة وملاءة وحسن معاشرة وتكثير ذرية صالحة. (المرقاة: ۵/۲۱۵).
لسان العرب میں ہے:
بارك الله الشيء وبارك فيه وعليه، وضع فيه البركة ويقال بارك الله لك وفيك وعليك. (لسان العرب: ۱۰/۳۹۵، دار الفكر).
القاموس الوحید میں ہے:
بارك الله على الشيء
، خیر و برکت والا کرنا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱٦۱ ۔ و لغات الحدیث: ۱/۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1264
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1264