فون پر ایجاب و قبول کرنے سے نکاح کا حکم:
Question
ایک صاحب کی لڑکی کو ایک لڑکا لے کر بھاگ گیا، والدین کی اجازت کے بغیر، پھر اس لڑکے نے اپنے رشتہ دار عالم سے فون پر نکاح پڑھوایا، لڑکی کا بیان ہے کہ نکاح کے وقت ہم دونوں گاڑی میں تھے اور تیسرا کوئی نہیں تھا، اس عالم نے فون پر مجھ سے پوچھا کہ پوری زندگی رہنا ہے، پھر اس لڑکے سے کچھ بات کی مجھے اس کا علم نہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس لڑکی کا نکاح ہوا یا نہیں؟ اور شریعت کی نگاہ میں ان دونوں کا کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ جب کہ لڑکا جعلی کاغذات پیش کرتا ہے، کیا لڑکا ایسی حرکت کر کے لڑکی لے جا سکتا ہے؟ کیا لڑکی کے والدین دوسری جگہ اس لڑکی کی شادی کرا سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائے ۔
Answer
مذکورہ بالا نکاح چند وجوہات کی بنا پر منعقد نہیں ہوا ۔ (۱) ایجاب و قبول نکاح کا رکن ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے کلام کو سنے حقیقتاً یا حکماً، اس نکاح میں دونوں کو معلوم نہیں فون پر کیا بات چیت ہوئی ۔ (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ نکاح میں شہادت ضروری ہے، یعنی بوقتِ نکاح دو گواہوں کا ہونا شرط ہے جو یہاں مفقود ہے ۔ (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ نکاح غیر کفو میں ہے کیوں کہ لڑکا فاسق و فاجر ہے اور لڑکی عالمہ ہے، نیز لڑکی کے والدین بھی اس نکاح پر راضی نہیں ہیں، اس بنا پر بھی یہ نکاح قابل اعتراض ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جعلی کاغذات کی وجہ سے حکم شرعی پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا، نکاح مفقود ہونے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، لڑکے کو ایسی ناپاک حرکتوں سے باز آنا چاہیے اور غضب الٰہی سے ڈرنا چاہیے، نیز لڑکی اور لڑکی کے والدین آئندہ نکاح میں خود مختار ہیں جہاں چاہیں نکاح کر سکتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:
وأما ركن النكاح فهو الإيجاب والقبول وذلك بألفاظ مخصوصة أو ما يقوم مقام اللفظ
وأما بيان شرائط الجواز والنفاذ فأنواع
ومنها: ـ الشهادة وهي حضور الشهود
قال عامة العلماء: إن الشهادة شرط جواز النكاح لما روي عن رسول الله ﷺ أنه قال: "لا نكاح إلا بشهود" وروي "لا نكاح إلا بشاهدين" وعن عبد الله بن عباس رضي الله تعالى عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال: "الزانية التي تنكح نفسها بغير بينة" ولو لم تكن الشهادة شرطاً لم تكن الزانية بدونها، ولأن الحاجة مست إلى رفع تهمة الزنا عنها ولا تندفع إلا بالشهود
(بدائع الصنائع: ۲/۲۲۹، ۲۵۲، كتاب النكاح، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وأما ركنه فالإيجاب والقبول كذا في الكافي
وأما شرائطه
منها: ـ سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۲٦۷، كتاب النكاح، الباب الاول).
البحر الرائق
میں ہے:
ولم يذكر المصنف رحمه الله شرائط الإيجاب والقبول
منها: ـ سماع كل منهما كلام صاحبه لأن عدم سماع أحدهما كلام صاحبه بمنزلة غيبته كما في الوقاية. (البحر الرائق: ۳/۸۳، كتاب النكاح، المكتبة الماجدية).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما شرائط اللزوم
منها: ـ الدين في قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله حتى لو أن امرأة من بنات الصالحين إذا زوجت نفسها من فاسق كان للأولياء حق الاعتراض عندهما، لأن التفاخر بالدين أحق من التفاخر بالنسب والحرية والمال والتعيير بالفسق أشد وجوه التعيير. (بدائع الصنائع: ۲/۳۲۰، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
(ومنها: ـ الديانة) تعتبر الكفاءة في الديانة وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وهو الصحيح كذا في الهداية، فلا يكون الفاسق كفأ للصالحة كذا في المجمع. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۱، الباب الخامس في الأكفاء).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ایجاب و قبول کرنے والوں میں سے ہر ایک کا ایجاب و قبول کے الفاظ کا حقیقتاً یا حکماً سننا اور سمجھنا کہ یہ الفاظ انعقاد نکاح کے لیے ہیں ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص ٤۷، باب سوم ارکان نکاح، دفعہ ۳۱) ۔
نیز مذکور ہے:
کفاءت کا اعتبار مندرجہ ذیل امور میں کیا جائے گا: (۱) لڑکا دینداری اور تقوی میں لڑکی کے ہم پلہ ہو ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص ۹۵، کفاءت کا بیان، دفعہ ۱۱۷) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
فاسق شخص ایسی عورت کا کفو نہیں جو خود بھی نیک ہو اور اس کا والد بھی نیک ہو، بحوالہ عالمگیری و شامی ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۲۵) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
حق کفاءت زوجہ کو اور اس کے اولیاء کو بھی حاصل ہے، لہذا کسی عورت نے اپنا نکاح جان بوجھ کر کسی غیر کفو میں کر لیا، تو اولیاء کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۹۸، کفاءت کا بیان، دفعہ ۱۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1266
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1266