پہلی بیوی کی موجود گی میں دوسری شادی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #383Urdu

Question

ایک شخص شادی شدہ ہے اپنے وطن سے دوسرے ملک کسبِ معاش کے لیے چلا گیا اور وہاں رہنا شروع کر دیا لمبی مدت ہو گئی واپس اپنے گھر نہیں گیا، کبھی کبھی اپنے گھر والوں کے لیے کچھ رقم وغیرہ بھیجتا ہے اور عورت کو وہاں لانا بھی مشکل ہے، تو اس شخص کے لیے گنجائش ہے کہ اس ملک میں دوسری شادی کر لے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دونوں بیویوں کے جملہ حقوق پر قدرت ہو تو دوسرے نکاح کی اجازت ہے اور اگر قدرت نہ ہو تو ایک ہی پر اکتفا کرنا چاہیے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی ہے ۔

قال الله تعالى: ﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلٰث وربٰع﴾ (سورة النساء، الآية: ۳).

پھر آگے فرمایا اگر تم حقوق کی ادائے گی سے قاصر ہو اور زیادتی کا اندیشہ ہو تو ایک کافی ہے ۔

قال الله تعالى: ﴿وإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة﴾ (سورة النساء، الآية: ۳).

حدیث شریف میں ہے:

وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنه أن غيلان بن مسلمة الثقفي أسلم وله عشر نسوة في الجاهلية فأسلمن معه فقال النبي ﷺ: أمسك أربعاً ففارق سائرهن. (رواه احمد والترمذي وابن ماجة، مشكاة شريف: ۲/۲۷٤، باب المحرمات، الفصل الثاني).

عالمگیری میں ہے:

وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخري وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك، وإن كان لا يخاف وسعه ذلك، والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤۱، الباب الحادي عشر في القسم).

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: و احسن الفتاوی: ۵/٦٦ ۔ ٦۸ ۔ و کتاب الفتاوی: ٤/۳۱۹ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.