خفیۃً نکاح کے بعد علی الاعلان تجدیدِ نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص کی منگنی ایک لڑکی سے ہو گئی، نکاح ۸ ماہ کے بعد طے ہو چکا ہے ۔ مگر یہ شخص اتنی لمبی مدت انتظار نہیں کر سکتا ہے، اور چاہتا ہے کہ ابھی چند گواہوں کی موجود گی میں ولی کی اجازت سے خفیۃً نکاح کر لے تاکہ لڑکی اس کے لیے حلال ہو جائے، اور آٹھ مہینے کے بعد باقاعدہ علی الاعلان پھر سے نکاح کریں تو کیا اس طرح کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں نکاح اول باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ گواہوں کی موجود گی میں لڑکی کی رضامندی سے کرے تو صحیح ہے اور اس پر نکاح کے تمام احکام جاری ہوں گے، لیکن ایسا نکاح کرنا بہتر نہیں ہے کیوں کہ صرف گھر والے جانتے ہیں دیگر سوسائٹی اور خاندان والے بے علم ہیں، لہذا تہمت کا قوی اندیشہ ہے، اور تہمت والے امور سے بچنا بے حد ضروری ہے، تاکہ کسی کی عفت و پاک دامنی پر کسی کو زبان درازی کا موقع نہ ملے ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں خفیۃً نکاح کرنا ممنوع تھا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ام جمیل کے ساتھ نکاح فرمایا تھا، لیکن عام لوگ اس نکاح سے بے علم تھے اس وجہ سے گواہی دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضي الله عنه اجنبیہ کے ساتھ مشغول تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ عورت اجنبیہ نہیں تھی بلکہ ان کی بیوی تھی ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ۱/۲۸۸، ابو اب الحدیث) ۔
در مختار میں ہے:
النكاح ينعقد بإيجاب من أحدهما وقبول من الآخر. (الدر المختار: ۳/۹، سعيد. وكذا في الهداية: ۲/۳۰٦. والبحر الرائق: ۳/۱٤٤).
ہدایہ میں ہے:
ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (الهداية: ۲/۳۰٦، كتاب النكاح، وكذا في الدر المختار: ۳/۲۱).
نیز جب پہلا نکاح ہو گیا تو اب دوسرے نکاح کی ضرورت نہیں ہے لیکن تجدید کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے، حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی تجدید کی درخواست کی تو آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے کوئی ان کار نہیں فرمایا ۔
ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنه قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه فقال للنبي ﷺ: يا نبي الله، ثلاث أعطنيهن قال: نعم، قال: عندي أحسن العرب وأجمله أم حبيبة رضي الله تعالى عنها بنت أبي سفيان أزوجكها، قال: نعم، قال: ومعاوية تجعله كاتباً بين يديك قال: نعم، قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار كما كنت أقاتل المسلمين، قال: نعم، قال أبو زميل: ولو لا أنه طلب ذلك من النبي ﷺ ما أعطاه ذلك لأنه لم يكن يسأله شيئاً إلا قال: نعم. (رواه مسلم في المناقب: ۲/۳۰٤).
قال أبو عباس أحمد بن عمر القرطبي في شرحه على مسلم المسمى بـ "المفهم": قلت: فقد ظهر أنه لا خلاف بين أهل النقل أن تزويج النبي ﷺ متقدم على إسلام أبيها أبي سفيان، ولما ثبت هذا تعين أن يكون طلب أبي سفيان تزويج أم حبيبة رضي الله تعالى عنها بعد إسلامه خطأ ووهماً وقد بحث النقاد عمن وقع منه ذلك الوهم فوجدوه قد وقع من عكرمة بن عمار
قلت: قد تأول بعض من صح عنده ذلك الحديث، بأن قال: إن أبا سفيان إنما طلب من النبي ﷺ أن يجدد معه عقداً علي ابنته المذكورة ظناً منه: أن ذلك يصح لعدم معرفته بالأحكام الشرعية لحداثة عهده بالإسلام. (المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم: ٦/٤۵۷).
مزید ملاحظہ ہو:
شرح النووي على الصحيح لمسلم: ۲/۳۰٤. وإكمال إكمال المعلم للوشتاني: ۸/٤۲۷. ٤۲۹. وتكملة فتح الملهم: ۵/۲۷۰).
وفي الدر المختار: وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان علي الظاهر. وفي الشامي: حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم عنده الألفان ويكون زيادة في المهر، وعند أبي يوسف رحمه الله المهر هو الأول، لأن العقد الثاني لغو، فيلغو ما فيه، وعند الإمام أن الثاني وإن لغا لا يلغو ما فيه من الزيادة. (الدر المختار: مع الشامي: ۳/۱۱۲، باب المهر، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۳/۱۱۳، باب الأولياء والأكفاء، كوئته).
لیکن ہاں کبھی مصلحت کی وجہ سے دوسرا نکاح کیا جاتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1284
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1284