سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص کے لیے اس کے والد کی مدخولہ یعنی سوتیلی ماں کی بہن محرم ہے یا نہیں؟ یعنی اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں والد کی مدخولہ یعنی سوتیلی ماں کی بہن محرم نہیں ہے، اس سے نکاح کرنے کی گنجائش ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم﴾.
وفي روح المعاني للعلامة الآلوسي البغدادي الحنفي: ﴿ما وراء ذلكم﴾ إشارة إلى ما تقدم من المحرمات أي أحل لكم نكاح ما سواهن انفراداً وجمعاً. (روح المعاني: ۵/٤، القاهرة).
شامی میں ہے:
ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها. (شامي: ۳/۳۱، فصل في المحرمات، سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
فلذا أجاز التزويج بأم زوجة الابن وبنتها، وجاز للابن التزوج بأم زوجة الأب وبنتها. (فتح القدير: ۳/۲۱۱، فصل في المحرمات، دار الفكر).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
خالہ سے نکاح حرام ہے مگر خالہ وہ ہے جو حقیقی والدہ کی بہن ہو سوتیلی والدہ والد کی دوسری بیوی کی جو بہن ہے، وہ خالہ نہیں اس سے نکاح حرام نہیں لہذا لڑ کے کا نکاح والد کی دوسری بیوی کی حقیقی بہن سے درست ہے، اگر کوئی اور رشتہ حرمت و رضاعت وغیرہ کا نہ ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۲۷۱، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
دو بہنیں حقیقی ان میں سے ایک باپ کے نکاح میں ہو اور دوسری بیٹے کے نکاح میں یہ درست ہے شرعاً اس میں کچھ حرج نہیں،
﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم﴾
میں داخل ہے، اصل یہ ہے کہ دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں اکٹھا ہونا منع ہے، باپ بیٹے کے نکاح میں ہونا ممنوع نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم: ۷/۱۷٦، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: زید کی زوجہ ہندہ کا انتقال ہو گیا، زید نے کسی عورت سے نکاح کیا اس عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوا اب اس لڑ کے کا نکاح زید کی زوجہ اولیٰ متوفیہ کی ہمشیرہ سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: ہو سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۸۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1289
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1289