بچے کے دودھ کی وجہ سے منع حمل کی تدبیر کا حکم:
Question
مدتِ رضاعت میں بچے کو دودھ پلانے کی خاطر منع حمل کی تدبیر کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ شیر خوار ہے اور دوسرا حمل ٹھہر جاتا ہے، یعنی ابھی پہلی ولادت کی کمزوری سے ماں کو چھٹکارا نہیں ملا تھا کہ دوسرے کی فکر لاحق ہو گئی، نیز ماں کا دودھ بتدریج ختم ہو جاتا ہے اور پہلے کی اچھی طرح پر ورش نہیں ہوتی ہے تو بچے بھی کمزور ہو جاتے ہیں اور ماں کو بھی ضرر ہوتا ہے، اس لیے اس ضرر سے بچنے کے لیے بھی منع حمل کی تدبیر اختیار کرنے کی اجازت ہے ۔ (بحث و نظر: ۲/۳۵۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1345
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1345