معیارِ نصاب سے متعلق صاحبین کے مذہب کی تحقیق اور بعض مفتی حضرات کا صاحبین کے قول پر فتویٰ:

9 min readFatwa Vol 3 #452Urdu

Question

سونے اور چاندی کو ملانے کے سلسلہ میں صاحبین کا کیا مذہب ہے؟ اور کیا موجودہ حالات میں اس پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

صاحبین کے نزدیک سونے اور چاندی کو باعتبار اجزاء ملا یا جائے گا مثلا کسی شخص کے پاس چاندی کے نصاب کا دو تہائی موجود ہے اور سونے کے نصاب کا ایک تہائی تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر سونا نصاب کے ایک تہائی سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

وقالا: بالأجزاء فإن كان من هذا ثلاثة أرباع نصاب ومن الآخر ربع ضم، أو النصف من كل أو الثلث من أحدهما والثلثان من الآخر، فيخرج من كل جزء بحسابه. (فتاوى الشامي: ۲/۳۰۳، باب زكاة المال، سعيد. وبدائع الصنائع: ۲/۲۰. والهداية: ۱/۱۹۵).

علامہ عینی رحمه الله البنایہ فی شرح الہدایہ میں فرماتے ہیں:

(وعندهما بالأجزاء) أي عند أبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله الضم بالأجزاء، وبه قال مالك رحمه الله وأحمد في رواية، ولا يري الشافعي رحمه الله بالضم، وبه قال أحمد في رواية وأبو ثور وأبو داود، وذهب آخرون إلى أن الضم إنما يكون إذا كمل النصاب من أحدهما، بيان ذلك إذا كان أحدهما ثلث النصاب فلا بد أن يكون الآخر ثلثي النصاب وكذلك النصف وغيره، ولو كانت عشرة دنانير ومائة درهم، وقيمة الدنانير مائة يجب الضم بالاتفاق على اختلاف الترجيح عنده باعتبار القيمة وعندهما باعتبار الأجزاء

وفي الاسبيجابي وغيره معني الضم بالأجزاء أن يكون من كل واحد منهما نصف نصاب من غير نظر إلى قيمتها أو من أحدهما نصف وربع ومن الآخر ربع، أو من أحدهما نصف وربع وثمن، ومن الآخر ثمن

(وهو رواية عنه) أي الضم بالأجزاء إنما هو من مذهب صاحبيه ورواية عن أبي حنيفة رحمه الله رواها هشام عنه، وفي المفيد: رواها الحسن عنه. (البناية في شرح الهداية: ۳/٤۵٤، مكتبة رشيدية).
وللاستزادة انظر: (فتح القدير: ۲/۲۲۲، دار الفكر، وتبيين الحقائق: ۱/۲۸۲، وبدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ۲/۱۹، وفتح باب العناية: ۲/۱۱۰، ودرر الحكام في شرح غرر الأحكام: ۱/۱۸۲، والمحيط البرهاني: ۲/۳۸٤، وغيره من الكتب الفقهية).

علامہ عینی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوا کہ ضم بالاجزاء صرف صاحبین رحمه الله کا مذہب نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ رحمه الله سے بھی ایک روایت ہے جس کو ہشام اور حسن بن زیاد دونوں نے نقل کیا ہے ۔ اور امام مالک رحمه الله کا مذہب ہے اور امام احمد رحمه الله سے بھی ایک روایت اسی طرح مروی ہے ۔
اور موجودہ دور میں زر بامِ عروج پر ہے جب کہ سیم اسفل السافلین میں ہے جس کی وجہ سے نصابِ زکوٰۃ میں دقتیں پیش آتی ہیں کہ اگر سونے کو معیارِ نصاب بنائیں (جیسا کہ ہم نے مفصل تحریر کیا تھا) تو عام متوسطین زکوٰۃ، صدقہ، قربانی وغیرہ سے سبکدوش ہو جائیں گے اور اگر چاندی معیار ہو جیسا کہ مشہور اور مفتیٰ بہ قول ہے تو ہر ایک تنخواہ دار پر ان چیزوں کا بار ہوگا جب کہ وہ بال بچوں کی وجہ سے پریشان ہوتا ہے یا بیوہ عورتیں اور بالغ لڑکیاں جن کے پاس کچھ زیورات ہوتے ہیں وہ بھی پریشانی کا شکار ہو جائیں گی تو درمیانی راہ یہی ہے کہ صاحبین رحمه الله کے مذہب کے مطابق جو کہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کی ایک روایت ہے دونوں چیزوں (یعنی سونا اور چاندی) کو باعتبارِ اجزاء ملا کر نصاب مقرر کریں تو عوام الناس کے لیے زیادہ آسانی ہو گی ۔ ترجیح الراجح میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔
عبارت ملاحظہ کیجیے:

قال أستاذنا غلام قادر النعماني: أفتي الفقهاء على قول أبي حنيفة رحمه الله لأن قوله أحوط والفتوى على قوله موافق لا صول الإفتاء لأن الأصل في العبادات الفتوى على قول أبي حنيفة رحمه الله لكن قولهما أوفق للقياس لأن على قول أبي حنيفة رحمه الله يصير نصاب الذهب تابعاً لقيمة الفضة مع أن القيمة تابع للذهب والفضة في تعيين النصاب وأيضاً في صورة الذهب

وأما على قولهما فيكون القيمة تابعاً للذهب والفضة ولا يكون الموجود تابعاً للمعدوم وأن قولهما أرفق بالناس فينبغي أن يفتي بقولهما في هذا الزمان وخصوصاً في مسألة الأضحية ترفقاً بالنساء لأن أكثر النساء يوجد معهن شيء من الذهب وهو يساوي نصاب الفضة باعتبار القيمة وهن لا يستعدن لبيع الذهب ولشراء الأضحية وإذا كان الانضمام بالأجزاء فحينئذٍ يكون الحكم أسهل عليهن. وقول الإمام قول المتون. (القول الراجح: ۱/۱۷٤).

مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں: اب ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت میں غیر معمولی فرق پیدا ہو گیا ہے اور سونے کے ایک نصاب میں چاندی کے کئی نصاب کا خرید کیا جانا ممکن ہو گیا ہے اگر سونے اور چاندی کی قدر میں وہی تناسب ہوتا جو صدرِ اول میں تھا، تو "ضمِ نصاب" کا مسئلہ عین قرین انصاف ہوتا جیسا کہ احناف کا مسلک ہے کہ اس میں فقراء کا فائدہ بھی ہے ۔ مگر موجودہ حالات میں جب کہ ان دونوں کی قدر میں نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے، ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس جزئیہ پر نظر ثانی کی جائے اور جمہور کی رائے اختیار کی جائے یا کم از کم صاحبین رحمه الله کی رائے اختیار کی جائے کہ سونے اور چاندی کے نصاب کا انضمام اجزاء کے لحاظ سے ہو نہ کہ قیمت کے اعتبار سے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۱٦۹ ۔ ۱۷۰) ۔
جدید فقہی مباحث میں ایک مقالہ نگار مفتی صاحب اپنے مقالہ میں تحریر کرتے ہیں: گزشتہ سطور میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ عہدِ نبوی میں ثمنین و اموالِ تجارت میں وجوبِ زکوٰۃ کے لیے بیس مثقال سونا اور دو سو درہم کے جو نصاب متعین کیے گئے، ان میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کوئی فرق نہ تھا، اس لیے میری رائے میں زیادہ مناسب و متوازن طریقہ کار وہ ہوگا جس میں مجموعی طور پر دونوں نصابوں کی رعایت کی جائے اور ان میں موجود عہدِ نبوی کی قدری مماثلت و اتحاد کو بھی حتی الوسع ملحوظ رکھا جائے
تقویم عروض کے لیے انسب و اعدل طریقہ یہ ہوگا کہ چاندی اور سونا کے ہر دو نصاب (جن کی قدر زمانہ رسالت میں متحد تھی) جمع کر دیے جائیں اور ثمن رائج الوقت سے ان کی مجموعی قیمت نکال کر اس نصف کو معیار نصاب قرار دیا جائے ۔
یہ طریقہ قریباً اس طرز عمل کے مشابہ ہے جو عہدِ فاروقی میں درہم کے سلسلہ میں گیا، اگر دونوں نصابوں کو یکجا کر کے ان کے نصف کو معیار نصاب قرار دیا جائے تو موجودہ حالات میں یہ زیادہ مناسب اور دونوں نصابوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بہ نسبت زیادہ معتدل و متوازن طریقہ ہوگا، اس میں دونوں نصابوں کی فی الجملہ رعایت کے ساتھ دونوں نصابوں کے مابین دورِ نبوی میں موجود قدری مماثلت بھی ممکن حد تک ملحوظ رہے گی، نیز اس میں فقراء و اصحابِ اموال دونوں کی مصالح کافی الجملہ لحاظ ہوگا ۔
اس کی تقریر دوسرے لفظوں میں یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ عروض تجارت کی زکوٰۃ میں نصف سونے اور نصف چاندی کے مخلوط نصاب کا اعتبار کیا جائے، اگر مال زکوٰۃ مجموعی قیمت دس مثقال سونا اور سو درہم چاندی کی مجموعی قیمت کے مساوی یا اس سے زائد ہو تو زکوٰۃ واجب قرار دی جائے ورنہ نہیں، اس اعتبار سے یہ طریقہ ضم ذہب و فضہ بالاجزاء کے مشابہ ہوگا ۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۸۱۱ ۔ ۸۱۵) ۔
سیم وزر کے درمیان باعتبارِ قیمت افراط و تفریط کی مثال یہ ہے کہ آج بتاریخ ۱۳/محرم الحرام ۱٤۳۷؁ھ مطابق ۲۷/اکتوبر ۲۰۱۵؁ ء سونے کی قیمت کے اعتبار سے نصابِ ذہب تقریباً: ٦۷۸,٤۰ رینڈ بنتا ہے، اور چاندی کی قیمت کے اعتبار سے نصابِ فضہ فقط: ٦۰۵,٤ رینڈ بنتا ہے، جب کہ دونوں نصاب کے مخلوط نصف نصف اجزاء کے اعتبار سے: ٦٤۱,۲۲ رینڈ بنتا ہے، یہ درمیانی راہ ہے افراط و تفریط سے پاک ہے نیز عہد نبوی میں دونوں نصاب ایک دوسرے سے قریب تر تھے، بنا بریں عصر حاضر کے مفتیانِ کرام کو معیارِ نصاب پر نظر ثانی اور غور و فکر کی ضرورت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.