ٹیکس کی رقم واپس ملنے پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
ایک تاجر نے ٹیکس کے محکمہ کو ایک ملین ٹیکس ادا کیا پھر محکمہ کے ساتھ مقدمہ چلا جس کی وجہ سے محکمہ نے ۲ لاکھ واپس کیے، اب اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ محکمہ ٹیکس نے جو زائد رقم وصول کی، محکمہ اس کا ضامن تھا، لہذا یہ دین جاحد کی طرح ہوا اور دین جاحد پر بینہ ہونے کے باوجود گزشتہ کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے فقہا ء نے اس کو مالِ ضمار میں شامل کیا ہے، اور بظاہر تاجر کے پاس ثبوت تھا اسی وجہ سے محکمہ کو کورٹ میں لے گیا، چنانچہ اس دو لاکھ میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
مالِ ضمار کی تعریف اور اس کا حکم احادیث اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں ماقبل میں مذکور ہوا، وہاں ملاحظہ کیا جائے ۔ مزید ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
اور جتنا ٹیکس قاعدہ کے خلاف زیادہ لگایا ہے اس کا ضامن ہے ۔ (امداد الاحکام: ۲/٦۲٤) ۔
خیر الفتاوی میں ہے:
دین مجحود (دین انکاری) کو بالاتفاق مالِ ضمار میں شمار کیا گیا ہے، بہت سے مشائخ نے اس کے ضمار بننے کے لیے اس قید کا اضافہ کیا ہے، کہ دین مجحود پر شہادت موجود نہ ہو اور امام محمد رحمه الله نے شہادت یعنی بینہ ہوتے ہوے بھی اسے مالِ ضمار قرار دیا ہے مشائخ کی ایک جماعت نے اسی کو صحیح کہا ہے:
ففي الدر والشامية: وعن محمد لا زكاة فيه وهو الصحيح ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل صححه في التحفة كما في غاية البيان وصححه في الخانية أيضاً وعزاه إلى السرخسي، بحر، وفي باب المصرف من النهر عن عقد الفرائد: ينبغي أن يعول عليه، قلت: ونقل الباقاني تصحيح الوجوب عن الكافي وهو المعتمد وإليه مال فخر الإسلام.
قاضی خان کی تصحیح بہت زیادہ وزن رکھتی ہے، عقود ر سم المفتی میں ہے:
قد قال العلامة قاسم: إن قاضي خان من أحق من يعتمد على تصحيحه. (ص۳۳). (
خیر الفتاوی: ۳/۵۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1353
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1353