کتابیں خرید کر مدرسہ میں دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #461Urdu

Question

میں نے ایک آدمی کو ایک ہزار زکوٰۃ کی رقم دی مدرسہ میں دینے کے لیے، اس نے اس رقم کو اپنی کسی ضرورت میں استعمال کر لیا، پھر اس نے اس کے عوض میں مدرسہ کو کچھ کتابیں دے دی جن کی قیمت ایک ہزار تین سو رینڈ تھی، کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آپ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی دوبارہ ادا کرنا لازم اور ضروری ادا کرنا لازم اور ضروری ہوگا، وکیل باداء الزکوٰۃ کا زکوٰۃ کی رقم اپنے استعمال میں لانا زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے درست نہیں ہے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، مزید براں زکوٰۃ فقیر کو تملیکاً دی جاتی ہے اور کتابیں مدرسہ کے کتب خانہ میں رکھی جاتی ہیں اس میں تملیک بھی نہیں پائی گئی ۔ ہاں اگر زکوٰۃ کی رقم میں تبدیلی کی اجازت ہو اور کتابیں خرید کر فقیر طلباء کو مالک بنا دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو گی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله ولو تصدق، أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح بخلاف ما إذا أنفقها أولاً على نفسه مثلاً ثم دفع من ماله فهو متبرع

وفيه إشارة إلى أنه لا يشترط الدفع من عين مال الزكاة ولذا لو أمر غيره بالدفع عنه جاز. (فتاوى الشامي: ۲/۲٦۹، ۲۷۰، سعيد).
وقال في الدر: ويشترط أن يكون الصرف تمليكاً لا إباحة كما مر لا يصرف إلى بناء نحو مسجد ولا إلى كفن ميت وقضاء دينه

الخ. (الدر المختار: ۲/۳٤٤، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.