صومِ عاشورا کے درجات:

4 min readFatwa Vol 3 #499Urdu

Question

ماہِ محرم میں عاشورا کے ساتھ دوسرے دنوں کو ملانے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کے کتنے درجات ہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

عاشورا کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا روزہ ملانا مستحب ہے اور اس کے چار درجات ہیں:
(۱) پہلا درجہ: نویں، دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھنا۔ یہ سب سے افضل ہے۔

أخرج الإمام البيهقي في شعب الإيمان (۳۵۱۱) عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: صوموا يوم عاشوراء وخالفوا اليهود فيه صوموا قبله يوماً وبعده يوماً.
قال الهيثمي: وفيه محمد بن أبي ليلي وفيه كلام. (۳/۱۸۸).
وأيضاً أخرجه أحمد (۱/۲۴۱، رقم: ۲۱۵٤)، وتمام في فوائده (رقم: ۸۷)، والبزار (رقم: ۵۲۳۸).
قال الشيخ عبد الحق الدهلوي في اللمعات:
ومراتب صوم محرم سه است وأفضل آن است كه روزه دارد روز نهم و دهم و يازدهم همچنيں آمده است در حديث أحمد وبزار عن ابن عباس رضي الله عنه، دوم نهم و دهم، سوم دهم تنها. (اشعة اللمعات: ۲/۱۰۵، ط: المكتبة الرشيدية).
بعض شراح نے فرمایا کہ اس روایت میں واو بمعنی مع ہے اور دیگر نسخوں میں واو کی جگہ
او
ہے۔ کما فی المرقاۃ۔ (٤/۲۸۸ط: ملتان)۔ اور یہ اس لیے کہ یہود کے ساتھ مخالفت ان میں سے ایک سے حاصل ہو جاتی ہے۔
(۲) دوسرا درجہ: نویں اور دسویں کا روزہ رکھنا۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: لئن بقيت إلى قابل لا صومن التاسع. وفي رواية عنه: فإذا كان العام المقبل إن شاء الله، صمنا اليوم التاسع. (رواه مسلم: ۱/۳۵۹).

(۳) تیسرا درجہ: دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھنا۔ کتبِ احادیث میں یہ روایت بکثرت وارد ہوئی ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: صوموا يوم عاشوراء، وخالفوا اليهود، صوموا قبله يوماً أو بعده يوماً. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۱۰۰٦، رقم: ۲۰۹۵).

چونکہ نویں کے روزے کی تمنا حضور ﷺ نے فرمائی تھی اس لیے نو محرم کے روزے کا دوسرا درجہ ہوا اور گیارہویں کا تیسرا درجہ ہے۔
(٤) چوتھا درجہ: صرف دس محرم کا روزہ رکھنا۔ اس کی فضیلت بھی احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہے۔
چنانچہ مسلم شریف کی روایت میں ہے:
وصيام يوم عاشوراء احتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله. (مسلم شريف: ۱/۳٦۷).

علامہ سید بنوری رحمه الله معارف السنن میں فرماتے ہیں:

وحاصل الشريعة: أن الأفضل (۱) صوم يوم عاشوراء وصوم يوم قبله وصوم يوم بعده، ثم الأدوَن منه: (۲) صوم عاشوراء وصوم يوم قبله أو (۳) صوم يوم بعده، ثم الأدون منه: صوم عاشوراء منفرداً، والصور الثلاث كلها عبادات بعضها فوق بعض. (معارف السنن: ۵/٤۳٤).

پھر اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ مکروہ ہے یا نہیں؟ تو بعض حضرات نے تشبہ کی وجہ سے مکروہ لکھا ہے لیکن اب تشبہ نہ ہونے کی وجہ سے عام فقہاء نے بلا کراہت جائز فرمایا ہے۔ کما فی البدائع۔ نیز دسویں کے ساتھ نویں ملانا مستحب ہے اور خلافِ مستحب مکروہ نہیں ہے، اور حضور ﷺ کی تمنا کے خلاف کرنے سے کراہت لازم نہیں آتی، مثلاً حضور ﷺ کی تمنا تھی کہ حطیم، بیت اللہ میں شامل ہو لیکن ایسا نہیں ہوا۔
خلاصہ یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ اب مباح یا خلافِ اولیٰ ہے مکروہ نہیں ہے، اور جن فقہاء نے مکروہ فرمایا اس کا مطلب بھی مکروہ تنزیہی ہے جو خلافِ اولیٰ کے مترادف ہے۔ جیسا کہ مفتی نظام الدین صاحب رحمه الله نے نظام الفتاوی میں فرمایا ہے اور اس پر مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله کے دستخط بھی موجود ہے۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (نظام الفتاوی، ص۳٦۸۔۳۷۱، و معارف السنن: ۵/٤۳٤۔٤۳۵)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.