طواف کے دوران جمعہ کا خطبہ شروع ہو جائے:

1 min readFatwa Vol 3 #522Urdu

Question

طواف کے دوران اگر جمعہ کا خطبہ شروع ہو جائے تو طواف کو جاری رکھنا درست ہے یا موقوف کر کے خطبہ سنے؟ اگر موقوف نہیں کیا تو گنہگار ہوگا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ درمیانِ طواف خطبہ شروع ہو جائے تو طواف موقوف کر کے دھیان اور توجہ کے ساتھ خطبہ سننا واجب ہے طواف جاری رکھنے سے خطبہ سننے میں خلل واقع ہوگا اس لیے طواف موقوف کرنا چاہیے ورنہ گنہگار ہوگا ۔ ملاحظہ ہو شرح اللباب میں ہے:

فصل في مكروهاته (أي الطواف)

والطواف عند الخطبة أي مطلقاً لا شعاره بالإعراض ولو كان ساكتاً وإقامة المكتوبة فإن ابتداء الطواف حينئذٍ مكروه بلا شبهة. (شرح اللباب، ص۱۸۳). (وكذا في غنية الناسك، ص ٦۸).

تحفہ حجاج میں بحوالہ مجموعہ فتاوی دار العلوم کراچی مرقوم ہے:
خاموشی سے کان لگا کر خطبہ سننا واجب ہے، اور خطبہ جمعہ کے دوران طواف کرنے سے چونکہ خطبے کے سننے میں خلل واقع ہوتا ہے، لہذا اس دوران طواف کرنا منع ہے، اس سے بچنا لازم ہے ۔ (تحفہ حجاج، ص۳۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.