احرام میں سلے ہوے پٹے والی چادر کے استعمال کا حکم:
Question
احرام کی ازار اگر ایسی ہو کہ اس پر کمر بند (بیلٹ) سیا گیا ہو تو کیا ایسا احرام پہننا جائز ہوگا یا نہیں؟ اس بیلٹ کے سینے کا مقصود ازار کے کھلنے سے حفاظت ہے اور اندر جیب بھی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
حالتِ احرام میں جو سلے ہوے کپڑے پہننا ممنوع ہے اس کا اصول یہ ہے کہ جو لباس انسان کے تمام بدن یا بدن کے بعض حصہ کے موافق بنایا گیا ہو اس طرح پر کہ وہ سلائی کے ذریعہ یا بعض حصوں کو بعض حصوں کے ساتھ چپکانے سے یا کسی اور طرح سے بدن یا کسی عضو کا احاطہ کر لے اور وہ خود بخود جسم پر ٹھہرا رہے ایسا لباس احرام کی حالت میں پہننا منع ہے، بنا بریں مذکور اصول کو مد نظر رکھتے ہوے ایسا تہ بند پہننا ممنوع ہوگا ۔ ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں ہے:
لو لبس الطيلسان ولم يزره لعدم الاستمساك بنفسه ولهذا يتكلف في حفظه فلو زره فهو لبس المخيط لحصول الاستمساك بالزر مع الإحاطة بالخياطة. (غنية الناسك، ص ٤٤).
فتح القدير
ميں ہے:
لبس المخيط أن يحصل بواسطة الخياطة اشتمال على البدن واستمساك فأيهما انتفي انتفي لبس المخيط
وكذا إذا لبس طيلسان من غير أن يزره عليه لعدم الاستمساك بنفسه فإن زر القباء أو الطيلسان يوماً لزمه دم لحصول الاستمساك بالزر مع الاشتمال بالخياطة. (فتح القدير: ۳/۳۰، دار الفكر، وكذا في البحر الرائق: ۳/٦، مكتبة ماجديه).
وقال في البدائع: ولأن لبس المخيط من باب الارتفاق بمرافق المقيمين والترفه في اللبس وحال المحرم ينافيه. (بدائع الصنائع: ۲/۱۸٤، سعيد).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۸۹، سعيد، وجواهر الفقه: ٤/۱۰۹، دار العلوم كراچي).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کسی محرم نے طیلسان پہنا اور اس کو گھنڈی (تکمہ) یعنی بٹن نہیں لگائی تو کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ اس طرح یہ خود بخود جسم پر نہیں ٹھہرا رہا لہذا اس کی حفاظت میں تکلف و عمل کی ضرورت پڑتی ہے پس اگر اس کو تکمہ لگایا تو اب یہ سلے ہوے کپڑے کا پہننا ہو جائے گا کیوں کہ سلائی کے ذریعہ احاطہ بدن کے ساتھ ساتھ اس کا تکمہ کے ذریعہ جسم پر ٹھہرنا بھی حاصل ہو گیا ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۳۹، محرمات و ممنوعاتِ احرام) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1422
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1422