بدنہ کی جگہ سات بکری دینے کا حکم:
Question
ایک عورت نے حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لیا، مفتی حضرات نے اس کو ایک اونٹ ذبح کرنے کے لیے کہا، اس نے اونٹ کی جگہ سات دنبوں کو ذبح کر لیا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اونٹ کی جگہ سات دنبے ذبح کرنا کافی نہیں ہے ۔ بڑے جانور مثلاً اونٹ یا گائے وغیرہ کا ذبح کرنا لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی اسعدیہ میں مرقوم ہے:
سؤال: عمن وجب عليه بدنة، هل يجزئ عنه سبعة دماء من الغنم أم لا؟ أفتونا.
الجواب: لا بد من البدنة؛ لا طلاق العلماء رحمهم الله تعالى في تعيين البدنة ولم يقل أحد منهم غير هذا كما يقولون فيمن وجب عليه هدي يجب عليه دم أو سبع بدنة. والله أعلم. (الفتاوى الاسعدية: ۱/٤۸، كتاب الحج، ط: دار الفارابي للمعارف).
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے:
سوال: جن حاجی پر بدنہ لازم ہو وہ اس کی جگہ سات ب کرے ذبح کر سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں ب جائے بدنہ کے سات ب کرے ذبح کرنے کی گنجائش نہیں، اونٹ یا گائے جیسے بڑے جانور کو ذبح کرنا ضروری ہے ۔ فتاوی اسعدیہ میں ہے:
سؤال: عمن وجب عليه بدنة الخ
(
فتاوی رحیمیہ: ٤/۲۳٤، ط: دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1440
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1440