نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنے پر عبادت کا شبہ:

6 min readFatwa Vol 3 #546Urdu

Question

بعض غیر مسلم اعتراض کرتے ہیں کہ جیسے ہم اصنام کی طرف منہ کر کے اصنام کی عبادت کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی کعبہ کی طرف منہ کر کے کعبہ کی عبادت کرتے ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟

Answer

ہم کعبہ کو مسجود اور معبود نہیں سمجھتے صرف استقبالِ قبلہ کرتے ہیں وہ بھی بعض حالات میں ساقط ہو جاتا ہے جس کی وجوہات درجِ ذیل ہیں:
(۱) قبلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں تحری ہے اور اگر بعد نماز کے تحری غلط ثابت ہوئی تب بھی نماز ہو گئی، نیز نوافل میں شہر سے باہر قبلہ کا التزام نہیں ہے، سفر وغیرہ میں جس طرف سواری کا رخ ہو نماز پڑھنا جائز ہے ۔
(۲) تمام عالم کے مسلمانوں کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے کعبہ کی سمت مقرر کی گئی ہے ۔
(۳) کعبہ مقصود بالذات ہو تا تو اس کی تصویر کی طرف نماز پڑھنے کی اجازت ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
(٤) کعبہ کے اندر اور اس کے اوپر نماز پڑھنا جائز ہے جب کہ اس میں کعبہ کی طرف پشت ہو گی ۔
(۵) ہوائی جہاز میں نماز پڑھتے وقت فقط سمت کا لحاظ رکھا گیا ہے ورنہ کعبہ تو جہاز سے بہت نیچے ہے ۔
(٦) اگر کعبہ نعوذ باللہ منہدم ہو جائے تب بھی اس کی جہت کی طرف نماز جائز ہے ۔
(۷) جو مکہ مکرمہ سے باہر رہتا ہے تو نفس کعبہ اس کا قبلہ نہیں بلکہ جہتِ کعبہ قبلہ ہے ۔
نیز ملاحظہ ہو: (احکامِ اسلام عقل کی نظر میں، ص ۵۵) ۔
معارف القرآن میں حضرت مولانا ادریس صاحب رقم طراز ہیں:
ہم خانہ کعبہ کی عبادت اور پرستش نہیں کرتے اور نہ ہم خانہ کعبہ کو معبود اور مسجود سمجھتے ہیں ہم عبادت صرف خدا کی کرتے ہیں البتہ منہ قبلہ کی طرف کرتے ہیں چنانچہ لفظ استقبالِ کعبہ اور لفظ بت پر ستی خود اس پر شاہد ہے، استقبال کے معنی صرف اس کی طرف منہ کرنے کے ہیں اور بت پر ستی کے معنی یہ ہیں کہ بت معبود ہیں ہاں اگر اہل اسلام کعبہ پر ستی کے قائل ہوتے تو اعتراض بجا تھا ۔
دوم: یہ کہ اہل اسلام کے نزدیک نماز کے صحیح ہونے کے لیے فقط کعبہ کی طرف منہ ہو جانا کافی ہے استقبال کی نیت بھی ضروری نہیں، مقصود معبود ہے اس کی نیت ضروری ہے، جہتِ قبلہ اس کا وسیلہ ہے اور وسیلہ کی نیت ضروری نہیں، معاذ اللہ اگر خانہ کعبہ کی عبادت ہوتی تو معبود کی نیت ضروری ہوتی ۔
سوم: یہ کہ نماز کے شروع سے لے کر اخیر تک کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جو خانہ کعبہ کی تعظیم پر دلالت کرے شروع سے اخیر تک ہر لفظ اور ہر فعل حق تعالی کی تعظیم اور کبریائی اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح اور تقدیس ہی پر دلالت کرتا ہے اول سے اخیر تک خانہ کعبہ کا نام تک نہیں آتا اور بت پر ستی میں ان پتھروں اور مورتوں کی تعظیم ہوتی ہے جن کو آپ مہادیو اور شب وغیرہ بتاتے ہیں غرض یہ کہ بت پر ستی کو نماز سے کیا نسبت ۔
چہارم: یہ کہ خانہ کعبہ ان اینٹوں اور پتھروں کا نام نہیں اور نہ انہدامِ کعبہ کے بعد نماز موقوف ہو جاتی ہے اسی وجہ سے جس زمانہ میں خانہ کعبہ اور اس کی دیواریں منہدم ہوئیں نماز بدستور قدیم جاری رہی اگر دیوار کعبہ مسجود و معبود یا مقصود ہوتی تو اس زمانہ میں نماز موقوف رہتی بہت ہوتا تو یہ کہ بعد تعمیر ایامِ گزشتہ کی عبادت قضا کی جاتی اور بت پر ستی میں ظاہر ہے کہ بت ہی معبود و مسجود اور مقصود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شوالے یا مندر سے بتوں کو اٹھا کر کہیں اور رکھ دیں تو پھر سارے فرائض وہیں ادا ہوتے ہیں مکانِ اول کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھے تو اس کی نماز درست ہے اگر کعبہ مسلمانوں کا معبود ہوتا تو اس کے اوپر چڑھ کر نماز درست نہ ہوتی اس لیے کہ خانہ کعبہ اب اس کے سامنے نہیں نیز معبود پر چڑھنا گستاخی ہے، معترضین نے اپنے اوپر قیاس کیا ہوگا کہ وہ گائے اور بیل کو دیوتا اور معبود بھی سمجھتے ہیں پھر ان پر سوار بھی ہوتے ہیں اور سامان بھی لادتے ہیں اور اگر دیوتا جلدی جلدی نہیں چلتا تو پیچھے سے اس کے ڈنڈے بھی مارتے ہیں ؛ "بریں عقل دانش بباید گریست" ۔
پنجم: خانہ کعبہ کو اہل اسلام بیت اللہ کہتے ہیں، اللہ یا خدا نہیں کہتے اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مکان کی طرف جاتا ہے تو مکین مقصود ہوتا ہے اور وہاں جا کر جو آداب و نیاز بجا لاتا ہے تو ہر شخص اُس آداب اور نیاز کو صاحبِ خانہ کے لیے سمجھتا ہے جیسے تخت کی طرف جھک کر سلام کرنا تو وہ سلام صاحبِ تخت کو ہوتا ہے خود تخت کو نہیں ہوتا اور بت پر ست اپنے بتوں کو خانہ خدا یا تختِ خدا نہیں سمجھتے بلکہ وہ بت خود مقصود اور معبود ہوتے ہیں اور ان کو مہادیو یا شب یا گنیش وغیرہ سمجھ کر اُن کی عبادت کرتے ہیں ۔ (معارف القرآن: ۲/۱۷ ۔ ۱۸) ۔
یہ تحریر حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب رحمه الله کی ایک کتاب "قبلہ نماز " کا خلاصہ ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے اس کتاب کی مراجعت مفید ہوگی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.