امساک بالمعروف نہ کرنے پر طلاق کا حکم:
Question
ایک صاحب ملکیت شخص نے اپنی عورت کو گھر سے الگ کر دیا، خرچ بھی کچھ نہیں دیتا، اب وہ عورت انتہائی مصیبت سے زندگی کے ایام بسر کر رہی ہے، شخص مذکور نے اپنی ملکیت بھی دوسرے کے نام کر دی ہے، اس لیے بذریعہ عدالت بھی کوئی چارہ جوئی نہیں ہو سکتی، اب وہ عورت اس بے کسی کی حالت میں طلاق لینے کی مستحق ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اگر کوئی صورت طلاق کی نکل سکے تو تحریر فرمائیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب وہ امساک بالمعروف نہیں کرتا، اور زوجہ کو نفقہ نہیں دیتا، نیز ادائیگی حقوق سے بھی بے پر واہ ہے، تو اس کو طلاق دینا چاہیے، اور اگر شوہر از خود طلاق نہیں دیتا تو اس کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن بغیر طلاق کے عورت شوہر کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہو سکتی، عورت کو چاہیے کہ جمعیت العلماء کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرے، وہ حضرات تحقیق کرنے کے بعد نکاح فسخ کر سکتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
وإيقاعه مباح
ويجب لو فات الإمساك بالمعروف. (الدر المختار: ۳/۲۲۹، كتاب الطلاق، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
ويكون واجباً إذا فات الإمساك بالمعروف
ولذا قالوا: إذا فاته الإمساك بالمعروف ناب القاضي منابه فوجب التسريح بإحسان. (البحر الرائق: ۳/۲۳۷، كوئته، كتاب الطلاق).
بدائع الصنائع میں ہے:
وقال النبي ﷺ: لا ضرر ولا ضرار في الإسلام
لأن الله أوجب على الزوج الإمساك بالمعروف أو التسريح بالإحسان بقوله عزوجل: ﴿فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ ومعلوم أن استيفاء النكاح عليها مع كونها محرومة الحظ من الزوج ليس من الإمساك بالمعروف في شيء فتعين عليه التسريح بالإحسان فإن سرح بنفسه وإلا ناب القاضي منابه في التسريح. (بدائع الصنائع: ۲/۳۲۳، فصل في خلو الزوج عن العيوب، سعيد).
مزید ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۵، مدلل مکمل ۔ کتاب الفسخ و التفریق: ص۸۸ ۔ و مجموعہ قوانین اسلامی: ص۱۹۸ ۔ و الحیلۃ الناجزۃ: ص۱۱۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1474
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1474