طلاق کہ کر زوج اول کی طلاق مراد لینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #23Urdu

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو پہلے دو طلاقیں دی تھیں، پھر کچھ مدت کے بعد جھگڑے کے وقت طلاق کہا، لیکن وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ تم کو پہلے شوہر سے طلاق تھی، اب شرعاً بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ بیوی کو پہلے شوہر سے طلاق ہوئی تھی ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر شوہر کی نیت یہی تھی جو سوال میں مذکور ہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی اور بیوی شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے، لیکن آئندہ اس قسم کے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں طحطاوی میں ہے:

وكذا لو نوى طلاقها من زوجها الأول على الصحيح (خانية) أي يصدق قضاءً وديانة إذا كان لها زوج طلقها قبل. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۱۳).

الغرض: بہتر صورت یہ ہے کہ زوجین اپنا مسئلہ کسی حَکَم کے پاس لے جائیں، حَکَم شوہر سے قسم لے گا، اگر شوہر نے قسم کھا لی اور واقعی بیوی کو پہلے شوہر سے طلاق بھی ہوئی تھی تو بیوی شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.