"ایک دی دو دے رہا ہوں" سے تین طلاق کا حکم:
Question
ایک شخص نے بیوی سے کہا "کہ میں نے تجھے ایک طلاق دی تھی دو اب دے رہا ہوں" ان الفاظ سے کتنی طلاق واقع ہو گی؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ان الفاظ سے "ایک دی تھی دو دے رہا ہوں" تین طلاقیں واقع ہو گئیں، اور بدون حلالہ زوج اول کے لیے حلال نہیں ہے، اس لیے کہ "طلاق دے رہا ہوں" صیغۂ حال ہے جس سے فی الحال طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:
قوله وما بمعناها من الصريح أي مثل ما سيذكره من نحو: كونه طالقاً واطلقي يا مطلقة بالتشديد وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤۸، باب الصريح، سعيد).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
قالت لزوجها: من با تونمي باشم، فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو أست، مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق في كنم طلاق مي كنم، وكرر ثلاثاً طلقت ثلاثاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤، باب الطلاق بالفاظ الفارسية).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ایسا لفظ جو زمانہ حال میں طلاق دینے پر دلالت کرتا ہو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، وقوع طلاق کے لیے صیغہ ماضی ہی ہونا ضروری نہیں ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/۲۹۲، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (تنقیح الفتاوی الحامدیہ: ۱/۳۸، کتاب الطلاق، دار الاشاعۃ العربیۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1489
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1489