طلاقِ ثلاثہ میں مفتی کے فیصلہ پر قاضی کے فیصلہ کی ترجیح:
Question
ایک شخص کی بیوی غائب تھی اور شوہر نے اس کو بتایا کہ میں نے "امرأتي طالق" تین مرتبہ کہا تھا لیکن میری نیت تاکید کی تھی اور مفتی صاحب نے ایک طلاق کا فتویٰ دیا اور میں رجوع کرتا ہوں لیکن بیوی قاضی کے پاس گئی اور اس نے حرمتِ مغلظہ کا فیصلہ کیا تواب فتویٰ اور قضاء میں تعارض ہوا کس کو مانا جائے گا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ قاضی کے فیصلہ کو مفتی کے فیصلہ پر ترجیح ہو گی، لہذا عورت اس شخص کے لیے حرام رہے گی، بدونِ حلالہ زوج اول کے لیے حلال نہ ہو گی، نیز عورت کے لیے اپنے نفس پر قابو دینا ناجائز ہوگا اگر شوہر راضی نہ ہو تو خلع کر کے رہائی حاصل کر لی جائے ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:
المقلد إذا أفتاه إنسان في حادثة ثم رفعت إلى القاضي فقضي بخلاف رأي المفتي فإنه يأخذ بقضاء القاضي ويترك رأي المفتي لأن رأي المفتي يصير متروكاً لقضاء القاضي. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ۷/٦، كتاب آداب القاضي، فصل في شرائط القضاء، سعيد).
مبسوط میں ہے:
وإذا كان الزوج غائباً أو كان يعتقد أن الطلاق غير واقع فعليه أن يتبع رأي القاضي
وكذا لو حكمنا فقيهاً فحكمه كفتواه لأن سببه تراضيهما لا ولاية ثابتة له حكماً فكان تراضيهما على تحكيمه كسؤالهما إياه والفتوي لا تعارض قضاء القاضي فإذا قضي القاضي عليه بخلاف ذلك كان عليه أن يتبع رأي القاضي. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۱۸۵، كتاب الاستحسان، باب الرجل يري الرجل يقتل أباه أو غيره، دار الفكر).
ایضاح النوادر میں ہے:
اگر ایک ہی واقعہ سے متعلق صاحب معاملہ مفتی سے فتویٰ لے کر پھر قاضی سے فیصلہ حاصل کرتا ہے، اور مفتی نے دیانت پر فتویٰ دیا تھا اور قاضی نے قضاء اور ظاہر پر فتویٰ دے دیا، مثلاً شوہر نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق، طلاق، طلاق، اور کہتا ہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کی نیت کی تھی تو مفتی نے دیانت کا اعتبار کر کے سائل کی نیت و ارادہ کے مطابق ایک طلاق پر فتویٰ دے کر رجعت کا حکم دے دیا، اور قاضی نے ظاہر کا اعتبار کر کے تین طلاق کا فیصلہ دے کر رجعت سے منع کر دیا تو ایسی صورت میں صاحبِ معاملہ پر مفتی کا فتویٰ چھوڑ کر قاضی کے فیصلہ پر عمل کرنا واجب ہے ۔ (ایضاح النوادر: جلد دوم: ۹۲، مکتبہ علمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1497
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1497