طلاقِ بائن کے بعد بنیتِ انشاء طلاقِ بائن کا حکم:
Question
ـ: فقہاء کا قاعدہ ہے "البائن لا یلحق البائن" یعنی طلاقِ بائن کے بعد دوسری طلاقِ بائن واقع نہیں ہوتی، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری بائن میں پہلی بائن کی خبر دینے کا احتمال ہے، لیکن اگر کوئی شخص بنیتِ انشاء دوسری طلاقِ بائن دے تو کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله اور حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ بائن کے بعد دوسری بائن بنیتِ انشاء دی جائے تو واقع ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وينبغي أنه إذا أبانها ثم قال لها "أنت بائن" ناوياً طلقة ثانية، أن تقع الثانية بنيته، لأنه بنيته لا يصلح خبراً، فهو كما قال "أبنتك بأخرى" إلا أن يقال إن الوقوع إنما هو بلفظ صالح له، وهو أخري، بخلاف مجرد النية. (البحر الرائق: ۳/۳۰۸، كوئته).
احسن الفتاوی میں ہے:
أقول وبالله التوفيق وبيده أزمة التحقيق أن محصول المبسوط في الشامية وغيرها من الكتب المعتبرة أن الطلاق
فلا لحاق في صورتين: أي إن كان الطلاق السابق بائناً، صريحاً كان أو بالكناية، فلا يلحقه البائن بالكناية فقط إلا أن ينوى الإنشاء أو لم يمكن الحمل على الإخبار. (أحسن الفتاوي: ۵/۱۳۵)
۔
لیکن علامہ شامی رحمه الله، علامہ طحطاوی رحمه الله اور حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ طلاقِ بائن کے بعد دوسری طلاقِ بائن کسی بھی صورت میں واقع نہیں ہو گی، اور نیت کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله صاحب بحر کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
أقول: ويدفع البحث من أصله تعبيرهم بالإمكان، وبأنه لا حاجة إلى جعله إنشاء متي أمكن جعله خبراً عن الأول، لأنه صادق بقوله "أنت بائن" على أن البائن لا يقع إلا بالنية، فقولهم "البائن لا يلحق البائن" لا شك أن المراد به البائن المنوي، إذ غير المنوي لا يقع به شيء أصلاً، ولم يشترطوا أن ينوي به الطلاق الأول فعلم أن قولهم: إذا أمكن
الخ احتراز عما إذا لم يمكن جعله خبراً كما في "أبنتك بأخري" لا عما إذا نوى به طلاقاً آخر، فتدبر. (فتاوى الشامي: ۳/۳۰۹، سعيد. وكذا في منحة الخالق على البحر الرائق: ۳/۳۰۸، كوئته).
علامہ طحطاوی رحمه الله فرماتے ہیں:
(إذا أمكن جعله إخباراً عن الأول
فلا يقع، لأنه إخبار) الأولي أن يقول: "لصلاحيته للإخبار" فإنه لو أنشأ ثانياً لا يعتبره الشارع، بل جعله بمنزلة الإخبار
وما سيأتي عن المحيط صريح في إلغاء النية. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۳۷).
حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں:
جس صورت میں طلاقِ مقدم بائن ہو، صریح ہو یا کنایہ، اور طلاقِ مؤخر کنایہ بائن ہو، اس صورت میں تو طلاقِ مؤخر کا وقوع نہ ہوگا، اگر چہ نیت بھی وقوع کی کر لے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/٤۲۳) ۔
طلاقِ بائن کے بعد دوسری طلاقِ بائن کے عدم وقوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ طلاقِ بائن کے بعد عورت دوسری طلاق کا محل ہی نہیں رہی، اس لیے دوسری واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وفرق في الذخيرة بين "أنت بائن" للمبانة، وبين وقوع "أنت بائن" المعلق بعد الإبانة: أنه لما صح التعليق أولاً لكونها محلاً له، جعلنا المعلق "الطلاق البائن" وصار بائناً صفة للطلاق، والمعلق بالشرط كالمنجز عند وجوده، فإنه قال في العدة: أنت طالق بائن، ولو قاله وقع، بخلاف أنت بائن، منجزاً في عدة المبانة، لأنه صفة للمرأة، وهي لم تكن محلاً، لأن محله من قام به الاتصال، وقد انقطعت الوصلة بالإبانة. (البحر الرائق: ۳/۳۰۸، كوئته).
لیکن اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ عدم محل کی وجہ سے طلاقِ بائن واقع نہیں ہوتی تو پھر طلاقِ بائن کے بعد صریح بھی واقع نہ ہونی چاہیے، حالانکہ طلاقِ بائن کے بعد اگر کوئی شخص طلاقِ صریح دے دے تو واقع ہو جائے گی، اس کا کیا جواب ہے؟
(۱) اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ وقوعِ طلاق کے بارے میں الفاظِ صریحہ قوی اور مضبوط ہیں، جب کہ کنایات میں دیگر احتمالات موجود ہیں، اور قوی الفاظ کے لیے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی وہ اپنا اثر دکھا کر رہتے ہیں ۔
(۲) ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بائن کے بائن میں اخبار غالب ہے، جب کہ صریح میں انشاء غالب ہے، اس لیے صریح سے نئی طلاق واقع ہوتی ہے ۔
شامی میں ہے:
الصريح ـ الذي هو الأصل في الكلام لما أنه موضوع للإفهام. (فتاوى الشامي: ۳/۲۹٦، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1506
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1506