"گھر سے نکل جاؤ" بغیر نیت طلاق کہنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #65Urdu

Question

ایک شخص نے ۵ سال پہلے بیوی سے کہا "گھر سے نکل جاؤ" اور اس وقت کہا تھا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اس درمیان میں بچے کی پیدائش بھی ہوئی ۔ اب کہتا ہے کہ میری نیت طلاق کی تھی، کیا ۵ سال کے بعد کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور بچہ ثابت النسب ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں یہ الفاظ "گھر سے نکل جاؤ" کنایاتِ طلاق میں سے ہیں، اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر طلاق کی نیت کی تھی تو طلاق واقع ہو گی، لیکن شوہر نے جب انکار کر دیا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی، پھر ۵ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد کہتا ہے کہ میری نیت طلاق کی تھی، اس سے کوئی اثر مرتب نہ ہوگا، کیوں کہ یہ اقرار سے رجوع کرنے کے مترادف ہے اور اس کا اعتبار نہیں ہے، نیز بچے بھی ثابت النسب ہوں گے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

الكنايات لا تطلق بها قضاءً إلا بنية أو دلالة الحال وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. وفي الشامي: قوله قضاء، قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية ولو وجدت دلالة الحال، فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط، كما هو صريح البحر وغيره. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۲۹٦، باب الكنايات. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۳۷٤. والبحر الرائق ۳/۲۹۸، باب الكنايات في الطلاق).

شرح مجلہ میں ہے:

لا يصح الرجوع عن الإقرار في حقوق العباد. (شرح المجلة، ص: ۸۷٦).
وفي تكملة فتح القدير: لأن الرجوع عن الإقرار باطل مفصولاً كان أو موصولاً. (نتائج الأفكار تكملة فتح القدير: ۸/۳٦٤، دار الفكر).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
طلاق کنائی کے الفاظ سے طلاق واقع ہونے کا مدار نیت پر ہے، اگر بہ نیت طلاق یہ الفاظ کہے ہیں تو اس سے طلاقِ بائن واقع ہو گی، اور اگر بہ نیت طلاق یہ الفاظ نہیں کہے تو ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بدستور نکاح قائم ہے ۔ نیت کے بارے میں شوہر ہی کا قول معتبر ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۵۰۰، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ان الفاظ (کنایات) میں اگر نیت طلاق کی ہو تو ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوئی ہے، اور اگر نیت طلاق کی نہ تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی، بدستور وہ عورت اس کی زوجہ ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۸۱، مدلل مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.