غیر معتاد طریقہ پر طلاق بالکتابت کا حکم:
Question
زید کرسی پر بیٹھا تھا اس کے سامنے میز پڑی تھی، اس نے میز پر اپنی بیوی کا نام لکھ کر تین طلاق لکھ دی اور یہ لکھا: "میری بیوی زینب کو تین طلاق" بعد میں کہا کہ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں تھا اور نہ غصہ میں لکھا، بلکہ میں مذاق کر رہا تھا، کیا طلاق ہوئی یا نہیں؟
Answer
غیر معتاد طریقہ پر طلاق لکھنے سے بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی، ہاں طلاق کی نیت سے لکھا تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔ اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذاق میں طلاق کے الفاظ میں طلاق واقع کرنے کی نیت نہیں ہے، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدران وأوراق الأشجار أو على كاغذ لا على الوجه المعتاد فلا يكون حجة إلا بانضمام شيء آخر إليه كالنية. (فتاوى الشامي، مسائل شتي: ٦/۷۳۷).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
کتابت مستبینہ غیر مرسومہ سے طلاق ایسی صورت میں واقع ہو گی جب کہ شوہر کہے کہ میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی تھی ۔ رد المحتار میں ہے:
وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا. (
مجموعہ قوانین اسلامی، ص ۱۳۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
مجمع الأنهر: ۲/۷۳۳، الفتاوى الهندية: ٦/٤٤۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1533
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1533