بحالت نشہ طلاق نامہ پر دستخط کروانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #78Urdu

Question

ایک شخص کے دشمنوں نے اسے شراب پلا کر یا کسی اور طرح بے ہوش کر دیا، پھر ایک وثیقہ نویس (طلاق نامہ لکھنے والے اور عرضی لکھنے والے) کو ساتھ لے کر نشہ کی حالت میں اس طلاق نامہ پر اس کی انگشت کا نشان لگوا لیا، یا اس کے دستخط کروا لیے، پھر ان لوگوں نے اس کی زوجہ کو اس کی طرف سے طلاق لکھ دی، لیکن اس شخص کو اور اس کی زوجہ کو طلاق نامہ کی کچھ خبر نہیں، الغرض پوری کاروائی دھوکہ سے کی گئی، کیا اس صورت میں اس کی زوجہ پر طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ دھوکہ بازی اور بغیر اطلاع کے سادہ کاغذ پر دستخط کروانے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
فرضی طور سے کسی کی طرف سے طلاق نامہ لکھ دینے سے اور بدون اطلاع اس امر کے کہ اس کاغذ میں طلاق لکھی ہوئی ہے، شوہر کا انگوٹھا لگوا لینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اسی طرح سفید سادہ کاغذ پر کسی حیلہ سے شوہر کا انگوٹھا لگوا کر بعد میں اس کاغذ میں طلاق لکھ دینے سے شوہر کی طرف سے طلاق واقع نہ ہو گی ۔

كما في حديث ابن ماجة: "الطلاق لمن أخذ بالساق". الخ.
اور شامی میں ہے:
وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق مالم يقر أنه كتابه.

پس اس صورت میں شوہر کی طرف سے طلاق نہیں ہوئی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۱۰۲، دار الاشاعت) ۔
و کذا فی فتاوی محمودیہ: ۱۲/٦٤٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.