مرتد ہونے سے فسخ نکاح کا حکم:
Question
ایک عورت اپنے شوہر سے بہت تنگ آ چکی ہے شوہر طلاق نہیں دیتا، اس کوکسی نے حیلہ بتلایا کہ نعوذ باللہ تم مرتد ہو جاؤ تمہارا نکاح ٹوٹ جائے گا، اس کے بعد مسلمان بن جاؤ، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، کیا اس عورت کا نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں؟ اور مسلمان ہونے کے بعد وہ اپنے سابقہ شوہر کے علاوہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
ہمارے اکابر رحمه الله نے بڑی تفصیل سے اس مسئلہ کو اپنے فتاوی میں تحریر فرمایا ہے، امداد المفتین یعنی فتاوی دار العلوم دیوبند قدیم میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے ص ۵۷۰سے ۵۷۵تک اس مسئلہ کی تفصیلات اور فقہائے کرام کی عبارات تحریر فرمائی ہے، فتح القدیر: ۳/۲۹۷، نکاح اہل الشرک، و البحر الرائق: ۲/۲۳۰، و فتاوی ہندیہ، الباب العاشر فی نکاح الکفار: ۲/۳۱۷، و شامی: ۲/٤۰۳، سے عبارات نقل فرمائی ہیں، اس کے بعد تحریر فرمایا: عورت اگر مرتد ہو جائے اور مرد مسلمان ہو تو یہ نکاح اگر چہ فسخ ہو جائے گا، لیکن یہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ شرعاً وہ مجبور ہے کہ بعد تجدید اسلام اسی خاوند سے تجدیدِ نکاح کر لے اور اس نکاح جدید میں مہر بھی بہت کم رکھا جائے گا، اور اس نکاح جدید میں عورت کی رضا و عدم رضا کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ بلا رضا بھی اس کا نکاح جدید بحکم قاضی صحیح ہو جائے گا، یہ مشائخ بخاری کا فتویٰ ہے اور یہی ظاہر الروایہ ہے جو عام متون و شروح میں منقول ہے، الخ ۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا کہ مذہب حنفیہ میں اس مسئلہ سے متعلق تین قول ہیں:
اول یہ کہ نکاح فسخ ہو جاتا ہے، لیکن قاضی اس کو تجدید نکاح پر مجبور کرے گا، اور اسی خاوند کو جبراً دلائے گا، یہ ظاہر الروایہ ہے جو عام متون میں مذکور ہے ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نکاح ہی فسخ نہیں ہوتا جیسا کہ بہت سے مشائخ بلخ و بخاری کا فتویٰ ہے، اور در مختار نے اس پر فتویٰ دینے کو جائز کہا ہے، نیز نہر فائق سے شامی نے بھی اس پر فتویٰ دینا نقل کیا ہے اور فتاوی قنیہ میں بھی اس پر فتویٰ دیا گیا ہے ۔
تیسرا قول نوادر کی روایت ہے کہ اس کو بجائے بیوی ہونے کے باندی بنا کراس خاوند کے ساتھ رکھا جائے گا، صرح بہ فی الدر المختار وغیرہ یہ تینوں قول فتاوی قاضيخان، فتح القدیر، قنیہ، در مختار، شامی میں مفصل منقول ہیں، اور یہ تینوں اتنی بات پر متفق ہیں کہ عورت مرتد ہونے کے بعد اپنے سابقہ خاوند کے قبضہ سے ہرگز نہیں نکل سکتی بلکہ قول اول کی بنا پر اسے تجدید نکاح پر بعد تجدید اسلام مجبور کیا جائے گا، اور قول ثالث کی بنا پر کنیز بنا کر رکھا جائے گا لیکن ہندوستان میں بحالتِ موجود ہ ان دونوں صورتوں پر مسلمانوں کو قدرت نہیں اس لیے وہی دوسرا قول یعنی عدم فرقت جو مشائخ بخاریٰ کا مفتیٰ بہ ہے، اس پر فتویٰ دیا جائے اس لیے صورتِ مسئولہ میں عورت کا نکاح فسخ نہیں ہوا، البتہ احتیاطاً تجدید نکاح کے بغیر اس سے وطی نہ کرنی چاہیے، لیکن اپنے قبضہ میں رکھنا بہر حال جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (امداد المفتین: ۲/۵۷٤) ۔
لیکن غیر مسلم ممالک میں وہاں کی جمعیتوں اور علماء کی جماعتوں کو سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیے اور اگر واقعی عورت مصائب میں مبتلا ہے اور وہ ابتلا نکاح فسخ کرنے کا سبب بن سکتی ہو تو حتی الوسع جلدی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں حیلہ ناجزہ وغیرہ کی تفصیلات کو سامنے رکھ کر نکاح فسخ کرنے کی تدبیر فرما لیں، تاکہ ارتداد کا دروازہ بند ہو جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1590
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1590