اسقاطِ حمل سے عدت ختم ہونے کا حکم:
Question
اگر کسی عورت نے حمل ساقط کرا دیا، تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا، حمل ساقط کروانے سے عدت ختم ہو گئی یا تین حیض گزارنے لازم ہوں گے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر حمل پر چار ماہ گزر چکے تھے اور حمل ساقط کروایا تو عدت ختم ہو گئی، اب کسی نئی عدت کی ضرورت نہیں ہے، ہاں حمل اگر چار ماہ سے کم کا تھا تو تین حیض گزارنے سے عدت ختم ہو گی محض اسقاط سے عدت ختم نہیں ہو گی ۔ لیکن چار ماہ کے بعد بلا کسی قوی عذرِ شرعی حمل ساقط کروانا ناجائز اور گناہ ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:
قوله وضع حملها والمراد به الحمل الذي استبان بعض خلقه أو كله، فإن لم يستبن بعضه لم تنقض العدة لأن الحمل اسم لنطفة متغيرة فإذا كان مضغة أو علقة لم تتغير فلا يعرف كونها متغيرة بيقين إلا باستبان بعض الخلق بحر عن المحيط، وفيه عنه أيضاً أنه لا يستبين إلا في مائة وعشرين يوماً وفيه عن المجتبى أن المستبين بعض خلقه يعتبر فيه أربعة أشهر وتام الخلق ستة أشهر، وقدمنا في الحيض استشكال صاحب البحر لهذا بأن المشاهد ظهور الخلق قبل أربعة أشهر، فالظاهر أن المراد نفخ الروح لأنه لا يكون قبلها. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵۱۱، سعيد. وبدائع الصنائع: ۳/۱۹٦، سعيد. وكذا في (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۵٤۹، باب العدة).
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر حمل چار ماہ یا اس سے زائد مدت کا ہو تو اس کے اسقاط سے عدت ختم ہو جائے گی، ورنہ اس کے بعد تین حیض گزارنے سے عدت ختم ہو گی ۔ حمل پر چار ماہ گزرنے کے بعد اس کا اسقاط جائز نہیں، اس سے قبل جواز میں اختلاف ہے راجح یہ ہے کہ بدونِ سخت مجبوری کے یہ بھی جائز نہیں، ولادت تک عدت میں کوئی ضرر نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۵/٤۳۲، ٤۳۳ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۸/٤۰٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1618
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1618