عدت میں میاں بیوی کے ساتھ رہنے کا حکم:
Question
عدت کے زمانہ میں شوہر اور بیوی اگر ایک ہی گھر میں رہیں تو کیا حکم ہوگا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مطلقہ مغلظہ کو عدت کے زمانہ میں ایسی جگہ عدت گزارنا چاہیے جہاں شوہر سے اختلاط اور اس کی آمد و رفت نہ ہو، ایک مکان میں رہنے سے اگر ملاقات اور گناہ میں پڑنے کا قوی اندیشہ نہ ہو نیز گھر کے بڑے حضرات روکنے پر قدرت رکھتے ہوں تو ایک گھر میں عدت گزارنا ممنوع نہیں ہے ۔
البحر الرائق میں ہے:
ولم يبين المصنف حكم إقامته معها في منزل الطلاق قال في المجتبى: وإذا وجب الاعتداد في منزل الزوج فلا بأس بأن يسكنا في بيت واحد إذا كان عدلاً سواء كان الطلاق رجعياً أو بائناً أو ثلاثاً والأفضل أن يحال بينهما في البيتوتة بستر إلا أن يكون الزوج فاسقاً فيحال بامرأة ثقة تقدر على الحيلولة بينهما وإن تعذر فلتخرج هي وتعتد في منزل آخر
في الهداية: بأن خروجه أولي من خروجها عند العذر. (البحر الرائق: ٤/۱۵٤، باب العدة، كوئته).
وفي الدر المختار: ولا بد من سترة بينهما في البائن لئلا يختلي بالأجنبية ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة وإن ضاق المنزل عليهما أو كان الزوج فاسقاً فخروجه أولي لأن مكثها واجب لا مكثه ومفاده وجوب الحكم به ذكره الكمال وحسن أن يجعل القاضي بينهما امرأة ثقة قادرة على الحيلولة بينهما وفي المجتبى الأفضل الحيلولة بستر ولو فاسقاً فبامرأة. وفي الشامي: فإن السترة لا بد منها كما عبر المصنف تبعاً للهداية وهو الظاهر لحرمة الخلوة بالأجنبية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵۳۷، فصل في الحداد، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
عورت اسی مکان میں عدت گزارے مگر میاں بیوی کے درمیان کوئی حائل یعنی پر دہ وغیرہ کرنا ضروری ہے تاکہ خلوت میں دونوں کا اجتماع نہ ہو، اگر ایک مکان میں رہنے سے گناہ میں ابتلاءِ کا اندیشہ ہو تو کوئی ایسی عورت ساتھ رہے جو دونوں کو الگ رکھنے پر قادر ہو اگر ایسا نہ ہو سکے تو شوہر پر واجب ہے کہ عدت ختم ہونے تک اس مکان کو چھوڑ دے، کسی دوسرے مکان میں رہے اگر اس کو اس پر مجبور نہ کیا جا سکتا ہو تو بیوی یہ مکان چھوڑ کر کسی دوسرے مکان میں عدت گزارے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/٤٤۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1626
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1626