نذرِ ذبح منعقد ہونے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #257Urdu

Question

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر میں اس بیماری سے صحت یاب ہو گیا تو بکرا ذبح کروں گا، تو یہ نذر منعقد ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ذبح کی منت صحیح اور درست ہے ۔ لہذا صحت یاب ہونے پر بکرا ذبح کر کے اس کو صدقہ کرنا لازم اور ضروری ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

لو نذر بقتل شاة لا يلزمه ولو نذر بذبحها لزمه. (بدائع الصنائع: ۵/۸۵، سعيد).

فتاوی شامی میں ہے:

في الخانية: قال: إن برئت من مرضي هذا ذبحت شاة فبرئ لا يلزمه شيء إلا أن يقول: فلله على أن أذبح شاة. وهي عبارة متن الدرر، وعلّلها في شرحه بقوله: لأن اللزوم لا يكون إلا بالنذر والدال عليه الثاني، لا الأول

ولكن في البزازية أيضاً: إن عوفيت صمت كذا، لم يجب مالم يقل: لله علي، وفي الاستحسان يجب، ولو قال: إن فعلت كذا فأنا أحج، ففعل يجب عليه الحج. فعلم أن تعليل الدرر مبني على القياس، والاستحسان خلافه، وينافيه أيضا قول المصنف: على شاة أذبحها، أو عبارة الفتح: فعلى بالفاء في جواب الشرط، إذ لا شك أن هذا ليس وعداً. ولا يقال: إنما لم يلزمه شيء لعدم قوله: لله علي، لأن المصرح به صحة النذر بقوله: لله على حجة

وحمل ما في الخانية والدرر من صحة قوله: لله على أن أذبح شاة على القول بأنه يكفي أن يكون من جنسه واجب. (فتاوى الشامي: ۳/۷٤۰، أحكام النذر، سعيد).

امداد الفتاوی میں ہے:
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ذبح کرنا غیر ایام اضحیہ میں قربتِ مقصودہ نہیں اور یہ بھی تصریح کی ہے کہ منذور بہ کا قربتِ مقصودہ ہونا چاہیے، پس اگر نذر بالذبح میں صرف ذبح سے پوری ہو جائے تو لازم آتا ہے کہ منذور بہ غیر قربتِ مقصودہ ہو، و ہو باطل، اس سے معلوم ہوا کہ تصدق کو لازم کیا جائے گا تاکہ اس کے انضمام سے وہ قربت مقصودہ ہو جائے اس قاعدہ سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ تصدق واجب ہوگا، نیز ناذر کا قصد اس نذر ذبح سے یقیناً تصدق کا ہوتا ہے، پس عرفاً نذر بالذبح کا لفظ مستعمل نذر لمجموع الذبح و التصدق میں ہے اور اس مجموع کے نذر میں فقہاء نے انعقاد نذر کی تصریح کی ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵۵۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.