موقوفہ دراہم و دنانیر کے مصارف کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #338Urdu

Question

اگر دراہم اور دنانیر یا رینڈ وقف کیے تو استعمال کا کیا طریقہ ہے؟ یعنی اس کے مصارف کیا ہیں؟

Answer

موقوفہ دراہم و دنانیر یا رینڈ کے سرمایہ کو باقی رکھتے ہوے اس کے منافع کارِ خیر میں خرچ کیے جائیں، مثلاً مضاربت پر لگا کر اصل سرمایہ باقی رکھے اور نفع خرچ کریں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں:

وعن الأنصاري وكان من أصحاب زفر رحمه الله فيمن وقف الدراهم أو ما يكال أوما يوزن أيجوز ذلك قال: نعم، قيل: وكيف! قال: يدفع الدراهم مضاربة ثم يتصرق بها في الوجه الذي وقف عليه وما يكال أو يوزن يباع ويدفع ثمنه مضاربة أو بضاعة. (فتاوى الشامي: ٤/۳٦٤، سعيد. وكذا في خلاصة الفتاوى: ٤/٤۱۸. وكذا في مجمع الأنهر: ۱/۷۳۹).

احسن الفتاوی میں ہے:
دراہم و دنانیر کا وقف صحیح ہے مگر چونکہ وقف میں انتفاع بالمنافع مع بقاء العین ہوتا ہے، اس لیے وقف دراہم میں یہ شرط ہے کہ اصل دراہم کو خرچ نہ کریں بلکہ ان کے منافع کو خرچ کریں، یا ان سے کوئی چیز خرید کر اس کے منافع کو فقیر پر خرچ کریں ۔ (احسن الفتاویٰ: ٦/٤۱٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.