ارضِ موقوفہ پر تعمیر کا حکم:

5 min readFatwa Vol 4 #347Urdu

Question

ایک زمین مسجد کے لیے وقف ہے لیکن اس پر کوئی تعمیر وغیرہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اس زمین سے کوئی آمدنی حاصل نہیں ہو رہی ہے، اور نہ کوئی فائدہ ہو رہا ہے بلکہ زمین کے اخراجات مثلاً ٹیکس وغیرہ بھی نہیں نکلتے ہیں، اور مسجد کے پاس وسعت بھی نہیں کہ تعمیر کر سکے، اس لیے متولیانِ مسجد پریشان ہیں، ایک شخص نے ان کو بتلایا کہ میں اپنی رقم سے ایک دکان بنانا چاہتا ہوں لیکن بطورِ وقف نہیں بلکہ میری ملک میں رہے گی، اور زمین کے معقول کرایہ کے ساتھ آمدنی میں سے بھی کچھ حصہ مسجد کو ادا کرتا رہوں گا، کیا اس طرح تعمیر کی گنجائش ہے؟ اور کیا وقف کی زمین میں ذاتی تعمیر ہو سکتی ہے؟

Answer

ویران جائدادِ وقف جو ناقابل انتفاع ہو اس پر تعمیر کر کے قابل انتفاع بنانا فقط جائز ہی نہیں بلکہ افضل اور بہتر ہے، لیکن جب مسجد کے پاس اتنی وسعت نہیں ہے کہ قابل انتفاع بنا سکے تو مسجد کے متولی حضرات دوسرے شخص کو تعمیر کی اجازت دے سکتے ہیں، اور وہ تعمیر اس کی ذاتی ہو گی جب تک وہ وقف نہ کر دے، اور ماہانہ کرایہ وصول کیا جائے گا، مزید برآں آمدنی میں سے جو حصہ مسجد کو دینا چاہے اپنی مرضی سے دے سکتا ہے، البتہ اس کاروائی کو جانبین کی دستخط کے ساتھ قلم بند کیا جائے اور مسجد کی فائل میں محفوظ رکھا جائے تاکہ مرور زمانہ پر ورثاء ملکیت کا دعوی نہ کر دیں کیوں کہ اس میں ضیاعِ وقف کا پہلو مضمر ہے ۔
قانون العدل و الانصاف میں ہے:

وإذا بني الواقف بناء في أرض الوقف، أو غرس فيها أشجاراً، فإن كان البناء والغراس من مال الوقف، أو كان من مال الواقف، وذكر أنه بناه أو غرسه للوقف، فإنه يكون وقفاً، وإن كان من ماله، ولم يذكر أنه للوقف يكون ما بناه أو غرسه ملكاً له. (قانون العدل والإنصاف، ص ۱٤۲، مادة: ۲۰۷، البناء والغراس في ارض الوقف).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
دعوائے ملکیت یا غاصبانہ قبضہ کے خطرہ کے سد باب کے لیے ارض موقوفہ پر کرایہ دار کو ذاتی عمارت بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، لیکن اگر متولی نے اسے ذاتی مکان بنانے کی اجازت دے دی یا اس نے از خود بنا لیا اور کرایہ کی مدت ختم ہو گئی تو اگر چہ وہ رائج کرایہ دینے کے لیے تیار ہو اور اس کے غاصبانہ قبضہ کا ظن غالب بھی نہ ہو تو بھی متولی پر اسے کرایہ دار باقی رکھنا لازم نہیں ہے اور اگر ارض موقوفہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو تو اسے عمارت بنا لینے پر بھی مجبور کرے، اور اگر نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو اسے مکان بنانے کی اجازت نہ دے، اور جب تک ان میں سے کوئی شکل ممکن نہ ہو ارضِ موقوفہ بشمول عمارت دوسرے شخص کو کرایہ پر دے دے یہاں تک کہ عمارت ٹوٹ پھوٹ جائے اور اس کا ملبہ مالک کو واپس مل جائے، اور اس مدت کے اندر حاصل شدہ کرایہ مالک عمارت اور وقف دونوں پر اس کے اپنے اپنے حصے کے لحاظ سے تقسیم ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۳٦٦ ۔ ۳٦۸، دفعہ ٤۰) ۔
در مختار میں ہے:

ففي المنية حانوت لرجل في أرض وقف فأبي صاحبه أن يستأجر الأرض بأجر المثل أن العمارة لو رفعت تستأجر بأكثر مما استأجره أمر برفع العمارة، وتوجر لغيره، وإلا تترك في يده بذلك الأجر. وفي الشامية: والحاصل أن مستأجر أرض الوقف إذا بني فيها ثم زادت أجرة المثل زيادة فاحشة فأما أن تكون الزيادة بسبب العمارة والبناء أو بسبب زيادة أجرة الأرض في نفسها ففي الأول لا تلزمه الزيادة لا نها أجرة عمارته وبنائه وهذا لو كانت العمارة ملكه

قوله إلا تترك في يده بذلك الأجر لأن فيها ضرورة بحر عن المحيط وظاهر التعليل تركها بيده ولو بعد فراغ مدة الإجارة، لأنه لو أمر برفعها لتوجر من غيره يلزم ضرره، وحيث كان يدفع أجرة مثلها لم يوجد ضرر على الوقف، فتترك في يده لعدم الضرر على الجانبين فلو مات المستأجر كان لورثته الاستبقاء أيضاً إلا إذا كان فيه ضرر على الوقف بوجه ما. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۹۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.