گریٹینگس کارڈ (greetings card) کی تجارت کا حکم:
Question
عید کارڈ کی طرح سال گرہ اور مادھرس ڈے وغیرہ میں عیسائی لوگ کارڈ استعمال کرتے ہیں جس کو گریٹینگس کارڈ سے موسوم کرتے ہیں، کیا مسلمان اس کی تجارت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ اس کارڈ میں چھوٹی تصویریں بھی ہوتی ہیں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس قسم کے کارڈ کی تجارت جائز اور درست ہے، کیوں کہ اس میں تصویر مقصود نہیں ہوتی بلکہ تابع ہوتی ہے جیسا کہ موجود ہ دور میں اکثر اشیاء کے لیبل پر تصویریں ہوتی ہیں، فقہاء نے اس قسم کی تجارت کو بلا کراہت جائز قرار دیا ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھ آ جائے کہ دکان یا مکان میں تصویر والی اشیاء کو چھپا کر رکھیں تاکہ ظاہر حدیث کی خلاف ورزی سے سبک دوش ہو جائیں ۔
قال في رد المختار: لكن في الخزانة إن كانت الصورة مقدار طير يكره وإن كانت أصغر فلا. (رد المحتار: ۱/٦٤۸، سعيد).
فقہاء کے ہاں قاعدہ مشہور ہے: "
الأمور بمقاصدها". (الأشباه والنظائر: ۱/۱۰۲).
اس قاعدے کے پیش نظر چونکہ کارڈ کی تجارت مقصود ہے نہ کہ تصویر کی لہذا ناجائز نہیں ہے ۔
اسی طرح فقہاء نے بیع العصیر کے بارے میں فرمایا:
وذكر قاضيخان في "فتاواه" أن بيع العصير ممن يتخذ خمراً إن قصد به التجارة فلا يحرم وإن قصد به لا جل التخمير حرم. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۰۲).
کفایت المفتی میں ہے:
تصویروں کا خریدنا بیچنا ناجائز ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور بچوں کے کھیلنے کی ہوں یا کسی اور غرض کے لیے البتہ ایسی اشیاء جن میں تصویر کا بیچنا خریدنا مقصود نہ ہو جیسے دیا سلائی کے بکس کہ ان پر تصویر بنی ہوتی ہے مگر تصویر کی بیع و شراء مقصود نہیں ہوتی تو ایسی چیزوں کا خریدنا بیچنا مباح ہو سکتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/۲۳۵) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
سوال: کپڑے کے تھان کہ جس پر کارخانہ کے رجسٹر و چھاپ کا لیبل چسپا ہوتا ہے جو جاندار کی تصویر ہو یا بکس کہ جس پر تصویر جاندار ہو اور اس میں اشیائے فروخت بند ہوتی ہیں اس کا دوکان میں رکھنا تصویر رکھنے کے حکم میں ہوگا یا نہیں؟
الجواب: اس میں چونکہ تصویر کی بیع و شراء مقصود نہیں ہوتی اس لیے ضرورۃً گنجائش ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/ ۲٤۱) ۔
عطر ہدایہ میں ہے:
اگر ایسی تصویریں کسی کتاب یا برتن وغیرہ پر ہیں اور ان کی وجہ سے قیمت یا رغبت میں اضافہ ہو تو مکروہ ہے ۔ اگر ان کی وجہ سے رغبت نہ بھی ہو تب بھی کراہت سے خالی نہیں ہے، ہاں البتہ ان سے بچنا مشکل ہو جیسے روپیہ، کاغذ، ٹکٹ، کارڈ وغیرہ جن پر تصویریں چھپی ہوتی ہیں ۔ تو چھاپنے والے تو گنہگار ہوں گے عام لوگوں کو گناہ نہیں ہوگا ۔ (عطر ہدایہ ص۱۵۳، ۱۵٤، تصاویر کے احکام) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
سوال: تصویروں والے اخبارات کو گھروں میں کس طرح لانا چاہیے؟
الجواب: بعض اکابر کا معمول تو یہ تھا کہ اخبار پڑھنے سے پہلے تصویریں مٹا دیا کرتے تھے، بعض تصویروں پر ہاتھ رکھ لیتے تھے، ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ بھی غنیمت ہے کہ اخبار پڑھ کر تصویریں بند کر کے رکھ دیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۷/٦۸) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
بد قسمتی کی بات ہے کہ آج کل ایسی چیزوں پر بھی تصویروں کا لیبل لگایا جاتا ہے، جن سے تصویر کا کوئی تعلق
نہیں لیبل کے خرچ دینے سے سامان کا صحیح ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے اور ان کو فروخت کرنے میں تصویر مقصود نہیں، بلکہ اصل شے مقصود ہوتی ہے، اس لیے موجود ہ حالات میں ان اشیاء کی خرید و فروخت درست ہو گی، البتہ مسلمان صنعت کاروں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کو ایسے اوچھے ذریعوں سے پر کشش نہ بنائیں بلکہ معیار اور صلاحیت کے ذریعہ لوگوں کے لیے توجہ کا مرکز بنائیں ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1884
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1884