سگریٹ فروخت کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص دکان میں سامانِ تجارت کے ساتھ سگریٹ بھی فروخت کرتا ہے کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور آمدنی حلال ہو گی یا نہیں؟ نیز سگریٹ نوشی کا کیا حکم ہے؟
Answer
عصر حاضر میں اطباء کا اتفاق ہے کہ سگریٹ نوشی جسم کے لیے ضرر رساں ہے اس لیے قدیم زمانہ میں بھی علمائے کرام نے سگریٹ نوشی کو مکروہ قرار دیا تھا، بایں وجہ اس کی تجارت بھی مکروہ ہے اس لیے اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اس کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا، سگریٹ نوشی کی کراہت پر علماء نے کافی دلائل بیان کیے ہیں منجملہ چند حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) اس میں تضییع المال ہے، کیوں کہ نہ تو یہ ماکولات میں سے ہے اور نہ مشروبات میں سے، اور نہ جسم کا کوئی فائدہ اس سے وابستہ ہے بلکہ نقصان دہ ہے۔ اور اسراف و فضول خرچی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿كلوا واشربوا ولا تسرفوا﴾. (سورة الأعراف، الآية: ۳۱).
دوسری جگہ ارشاد ہے:
﴿ولا تبذر تبذيراً إن المبذرين كانوا إخوان الشىطين وكان الشيطان لربه كفوراً﴾. (سورة بني إسرائيل، الآية: ۲٦، ۲۷).
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: "
إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ومنعاً وهات ووأد البنات وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال. (صحيح البخاري: ۲/۸۸٤، باب عقوق الوالدين).
(۲) دوسری خرابی صحتِ جسمانی کو برباد کرنا ہے، آج کل اطباء اس بات پر متفق ہیں کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے۔ چند مضرات حسبِ ذیل ملاحظہ ہو:
گجراتی اخبار "سندیش" کے بیان کے مطابق سگریٹ اور بیڑی کے ایک کش کے ساتھ دس لاکھ بیکڑیاں بدن میں داخل ہو جاتے ہیں اور انسان کے پھیپھڑے، غذا کی نالی، اور انتڑیوں پر قابض ہو جاتے ہیں، اور اس پر مہلک اثرات ڈالنا شروع کر دیتے ہیں، اور عام طور پر تمباکو میں پائے جانے والے زہریلی مادے کی وجہ سے کینسر کا مرض لاحق ہوتا ہے، صرف کینسر ہی نہیں بلکہ خون کی کئی بیماریاں بھی اس سے جنم لیتی ہیں، اس طرح السر، دمہ ایسی ڈی ٹی، پیٹ کی بیماری بھی اسی سے پیدا ہوتی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ بیڑی سگریٹ وغیرہ پینا گویا اپنے آپ کو موت کی طرف لے جانا ہے، یا کم از کم بیماریوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ (سندیش، ص۷، بتاریخ ۲۵/۱/۲۰۱۰ء) ۔
التقدم العلمی نے عالمی ادارۂ صحتW.H.O. کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ دنیا میں ہر سال کم از کم چالیس لاکھ افراد محض سگریٹ نوشی اور بیڑی نوشی سے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔
دنیا کی بڑی بڑی لیباٹرئیوں نے تحقیقات و تجربات کے بعد واضح کیا ہے کہ سگریٹ وغیرہ میں جو ٤۷۰۰ مہلک اجزاء پائے جاتے ہیں ان میں سے ٤۳ اجزاء ایسے ہیں جو سو فیصد کینسر کا سبب بنتے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
(۱) نیکوٹین: اس سے دمے کی بیماری دماغ اور قلب میں ضعف طاری ہوتا ہے۔
(۲) اکسید کربن: جو انتہائی مفاسد کا حامل ہے۔
(۳) زرنیج: جو حشرات الارض کیڑے مکوڑے کو مارنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
(٤) کادمیون: زہر الودہ ہوتا ہے، جو عام طور پر بیڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
(۵) فوزمالوہید: مردہ لاشوں کو تعفن سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
(٦) D.D.T. کیڑے مار دوا۔
(۷) امونیا: زمین اور فرش اور ٹائلس وغیرہ صاف کرنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔
(۸) استیون: ناخن پالش ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
(۹) تولوین: فیکٹریوں میں مشین کی صفائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
(۱۰) میٹاتول: پٹاخوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
(۱۱) سیائیدھیڈروجن: انتہائی زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ (التقدم العلمی) ۔
ان مذکورہ بالا مہلک اجزاء سے صرف سگریٹ اور بیڑی پینے والے ہی کو نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اطراف میں موجود لوگوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر حاملہ کے پیٹ میں موجود جنین کے لیے تو انتہائی خطرناک ہوتے ہیں، بلکہ بعض سگریٹ کے دھوؤں سے تو حمل بھی گر جاتا ہے، بعض مرتبہ جنین مر بھی جاتا ہے یا اس کا وزن کم ہو جاتا ہے، بگڑی ہوئی صورت و ہیئت والا بچہ پیدا ہوتا ہے، یا جنین مہلک بیماریوں کا شکار ہو کر پیدا ہوتا ہے، بہرحال جنین اور صغار یعنی دودھ پیتے بچے اور کم عمر بچوں پر تو اس کے اثرات انتہائی ہلاکت خیز ہوتے ہیں۔ (التقدم العلمی، عدد ٦۸، فروری، ۲۰۱۰ء) ۔
یہ ہے سگریٹ نوشی وغیرہ کے نقصانات۔ (ماخوذ از ماہنامہ الفاروق ص۵٦، ۵۷، ذوالحجہ ۱٤۳۱ھ، طب و صحت، سگریٹ نوشی موت کی طرف پیش قدمی، از مولانا حذیفہ وستانوی) ۔
حدیث شریف میں ہے: "
لا ضرر ولا ضرار". (رواه ابن ماجة والدارقطني عن أبي سعيد الخدري، وابن عباس وعبادة بن الصامت رضي الله عنه مسنداً ومالك في الموطأ مرسلاً)
جس کے ایک معنی یہ ہے:
لا ضرر ابتداء ً ولا ضرر للغير انتقاماً وانتصاراً، فمن ذبح شاتك فلا تذبح شاته بل خذ منه القيمة
۔ اور دوسرے معنی یہ ہے:
لا ضرر أي لا تنقص حق الغير ولا ضرار أي لا تدخل ضرراً زائداً في المجازات.
اور تیسرے معنی یہ ہے:
لا ضرر لنفسك ولا ضرار للغير.
یہ تیسرے معنی یہاں مقصود ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿ولا تقتلوا أنفسكم﴾. (سورة النساء، الآية: ۲۹).
اپنے آپ کو قتل مت کرو، معلوم ہوا ہلاکت کے اسباب اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:
﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة﴾. (سورة البقرة، الآية: ۱۹۵).
(۳) تیسری خرابی یہ ہے کہ اس کی بدبو مضر اور قابل نفرت ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿ويحرم عليهم الخبائث﴾ (سورة الأعراف، الآية: ۱۵۷).
اس کا خبیث ہونا چونکہ یقینی نہیں ہے اس لیے حرام تو نہیں لیکن کراہت سے خالی بھی نہیں ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ مسکر یا مفتر ہے اس لیے ناجائز ہے لیکن محققین علماء کو اس کے مسکر اور مفتر ہونے میں شبہ ہے وہ فرماتے ہیں:
"الإسكار غيبوبة العقل مع حركة الأعضاء والتخدير غيبوبة العقل مع فتور الأعضاء"
اسکار عقل کا خراب ہونا جب کہ اعضاء حرکت کرتے ہوں اور تخدیر عقل کا غائب ہونا جب کہ اعضاء سست اور ساکت و بھاری ہوں، لیکن ڈاکٹروں نے اس کو سانس کی نالیوں، معدہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب قرار دیا ہے گردے اور کلیجے کے لیے نقصان دہ اور دل کے امراض اور بینائی کی کمزوری کا سبب بتایا ہے، جیسا کہ گزر گیا۔
حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم لاجپوری صاحب رحمه الله لکھتے ہیں: کراہت تحریمی ہو یا تنزیہی بہرحال قابل ترک ہے اس کی عادت نہ ہونی چاہیے، اس کی کثرت اسراف و موجب گناہ ہے جو لوگ ہر وقت اس کے عادی ہیں، ان کے منہ ہمیشہ بدبو دار رہتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کو بہت نفرت تھی۔ (فتاوی رحیمیہ، کتاب الحظر و الاباحہ، ۲/۲٤۲) ۔
حضرت مولانا عبد الوحید مکی نے سگریٹ کی ممانعت میں رسالہ لکھا ہے اس کے آخر میں حضرت مولانا عاشق الہی بلند شہری مدنی سابق مفتی دار العلوم کراچی کی تقریظ کے بعض الفاظ یہ ہیں:
لیکن حالاتِ حاضرہ میں جب کہ سگریٹ کی مضرتیں واضح ہو چکی ہیں ڈاکٹروں نے ان کا اقرار کیا ہے ان مضرتوں کے ہوتے ہوئے اور جانتے ہوئے اب تو اصحابِ افتاء حرمت کا فتوی دینے کی ہمت کر سکتے ہیں، امت کو اس کی بدبو سے اور مضرتوں سے اور اس سلسلے میں اسراف و تبذیر سے بچانا لازمی ہے، تمام حضرات غور فرما لیں، سگریٹ نوشی کے اضرار کی وجہ سے اب تو حرمت کا فتوی دینے میں تامل نہیں رہا، انتہی۔
حضرت مولانا کا حرمت کا فتوی تو بندہ فقیر کی سمجھ میں نہیں آتا تاہم میرے خیال میں کراہت کا فتوی مناسب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تجارت مکروہ ہے، تاہم آمدنی حلال ہے۔ ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
وصح بيع غير الخمر ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. وفي الشامية: قوله وصح بيع غير الخمر أي عنده خلافاً لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع وعلى قولهما في الضمان
قوله ومفاده أي مفاد التقييد بغير الخمر ولا شك في ذلك لا نهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة فصحة بيعها يفيد صحة بيعهما فافهم. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۵٤، كتاب الأشربة، سعيد).
وفي الشامية: نظمه الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية بقوله ويمنع من بيع الدخان وشربه وشاربه في الصوم لا شك يفطر. (فتاوى الشامي: ۲/۳۹۵، باب ما يفسد الصوم ومالا يفسده، سعيد).
وفي الدر المختار: قال شيخنا النجم: والتتن الذي حدث وكان حدوثه بدمشق في سنة خمسة عشر بعد الألف يدعي شاربه أنه لا يسكر وإن سلم له فإنه مفتر، وفي الشامية: قوله والتتن، أقول: قد اضطربت آراء العلماء فيه فبعضهم قال بكراهته، وبعضهم قال بحرمته، وبعضهم بإباحته، وأفردوه بالتأليف، وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ويمنع من بيع الدخان وشربه
(الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۵۹، كتاب الأشربة. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦٦۵، قديمي).
کفایت المفتی میں ہے:
سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے اور اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے۔ (کفایت المفتی: ۹/۱٤۸) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سگریٹ کی تجارت جائز ہے۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹۵) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
سگریٹ، بیڑی گٹکا صحت کے لیے مضر ہے، اس لیے کم از کم کراہت سے خالی نہیں ہے۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1910
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1910