عیب کی وجہ سے مبیع کی واپسی کے خرچہ کا حکم:
Question
زید نے عمر کو ایک بھاری مشین فروخت کر دی، فروخت کرنے کے بعد مشین میں ایک ایسا عیب ظاہر ہوا جس کی وجہ سے مشین کو واپس کرنا پڑا اب مشین کی واپسی کا خرچہ عمر مشتری پر ہوگا یا بائع زید پر؟ برائے کرم حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مشتری اگر پرانے عیب پر مطلع ہوا اور واپس کرنا چاہتا ہے تو واپسی کا خرچہ مشتری عمر کے ذمہ لازم ہوگا ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
تنبيهات مهمة: الأول: وجد بالمبيع الذي له حمل ومؤنة عيباً ورده فمؤنة الرد على المشتري. (البحر الرائق: ٦/۳۷، كوئته).
فتاوی بزازیہ میں ہے:
وجد بالمبيع الذي له حمل ومؤنة عيباً ورده فمؤنة الرد على المشتري. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/٤٤۷).
وفي المحيط البرهاني: وفي المنتقي: اشتري من آخر تمراً بالري وحمله إلى الكوفة ثم اطلع على عيب هناك فإن أراد أن يرده قال محمد رحمه الله: ليس له ذلك حتى يرده إلى ذلك الموضع علل فقال: لأن لحمله مؤنة. (المحيط البرهاني: ۸/۳۰، فصل في العيوب، رشيدية).
المحیط البرہانی کی عبارت سے بھی پتا چلتا ہے کہ مبیع کو بائع کے پاس پہنچانا جب مشتری کے ذمہ ہے تو اس کی باربر داری کی مشقت و خرچہ بھی مشتری کے ذمہ ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1968
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1968