دار الحرب میں سود کا حکم:

11 min readFatwa Vol 5 #152Urdu

Question

فقہاء نے لکھا ہے کہ مسلم مستامن جو ویزا لے کر دار الحرب گیا اور نو مسلم حربی دونوں کافر حربی سے سود لے سکتے ہیں، نیز مسلم اصلی جو دار الحرب کا باشندہ ہو وہ دار الحرب میں حربی سے سود لے سکتا ہے، ہاں دار الحرب کا اصلی مسلم یا مستامن حربی کو سود نہیں دے سکتے ہیں، اب ہم ساؤتھ افریقہ کے اصلی مسلمان باشندے جو دو سو سال سے یہاں رہتے ہیں غیر مسلموں سے سود لے سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

فقہاء احناف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، طرفین رحمه الله کے نزدیک حربی سے سود لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، لیکن جمہور فقہاء، ائمہ ثلاثہ اور امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک سود لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، اگر چہ حربی ہی سے ہو۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب خلافاً لا بي يوسف رحمه الله والشافعي رحمه الله لهما الاعتبار بالمستأمن منهم في ديارنا، ولنا قوله عليه السلام: "لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب" ولأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالاً مباحاً إذا لم يكن فيه غدر بخلاف المستأمن منهم لأن ماله صار محظوراً بعقد الأمان. (الهداية: ۳/۸٦).

بدائع الصنائع میں ہے:

إذا دخل مسلم أو ذمي دار الحرب بأمان فعاقد حربياً عقد الربا أو غيره من العقود الفاسدة في حكم الإسلام جاز عند أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله

وقال أبو يوسف رحمه الله: لا يجوز للمسلم في دار الحرب إلا ما يجوز له في دار الإسلام. (بدائع الصنائع: ۷/۱۳۲، كتاب السير، سعيد).
وللاستزادة: (البحر الرائق: ٦/۲۲٦، كوئته. وتبيين الحقائق: ٤/۷٤۲. ومجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۵/۱۸٦. ومنحة الخالق على هامش البحر الرائق: ٦/۲۲٦، كوئته. ورد المحتار: ۵/۱۸٦، باب الربا، سعيد. وفتح القدير: ۷/۳۸، باب الربا، دار الفكر).

بعض متأخرینِ احناف نے اس مسئلہ میں جمہور کے قول کو ترجیح دی ہے اور حضراتِ طرفین رحمه الله کے مذہب کو چند وجوہات کی بنا پر مرجوح قرار دیا ہے۔
وجوہِ ترجیح ملاحظہ فرمائیں:
(۱) علماء کے درمیان دار الحرب کی تعریف میں بہت اختلاف ہے، لہذا قطعی طور پر کسی کو دار الحرب نہیں کہا جا سکتا۔
(۲) جمہور فقہاء کے نزدیک دار الحرب میں بھی ناجائز ہے، اس وجہ سے شبہ ہو گیا اور ربا کے باب میں شبہ ربا بھی ممنوع ہے۔
(۳) نصوص علی الاطلاق سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیتی ہیں۔ مثلاً آیتِ کریمہ:
﴿أحل الله البيع وحرم الربا﴾. (سورة البقرة، الآية: ۲۷۵).
سود کی حرمت میں نصِ قطعی ہے۔ اسی طرح سودی معاملہ کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔
﴿فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله﴾. (سورة البقرة، الآية: ۲۷۹).
اس کے علاوہ بھی قرآن و احادیث میں اس قدر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں کہ جن کو سن کر کوئی شبہ ربا کی بھی جرأت نہیں کر سکتا۔
(٤) جمہور فقہاء کا قول احتیاط پر مبنی ہے۔
(۵) جمہور فقہاء کے قول پر عمل کرنے میں اختلافِ فقہاء سے بچاؤ حاصل ہو جاتا ہے۔
بہرحال اس زمانہ میں سود کا لینا مطلقاً ممنوع اور ناجائز ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۵۲۔ احسن الفتاوی: ۷/۲۰۔ و جدید فقہی مسائل: ٤/٦۲۔ و فتاوی بینات: ٤/۹٦۔ و کفایت المفتی: ۸/۱۰۳)۔
البتہ بعض علماء نے طرفین رحمه الله کے قول کو اختیار کیا ہے۔
ملاحظہ ہو: (مجموعۃ الفتاوی: ۲/۱۷۰، کتاب الربا، آرام باغ کراچی۔ و امداد الاحکام: ۳/٤۵۱، ٤۵۲)۔
دار الحرب کی تعریف:
دار الحرب کی تعریف میں علماء کے مختلف اقوال ملاحظہ فرمائیں:
جامع الرموز میں ہے:

دار الحرب ما خافوا فيه من الكافرين. (جامع الرموز: ۵/۵۵٦، باب الجهاد).

خزانۃ المفتین میں ہے:

دار الإسلام لا تصير دار الحرب إلا بإجراء أحكام الشرك فيها، وان يكون متصلة بدار الحرب لا يكون بينهما وبين دار الحرب مصر آخر للمسلمين، ولا يبقي فيها مسلم أو ذمي آمناً بالأمان الأول، فما لم توجد هذه الشرائط، لا تصير دار الحرب، ومعني قولنا: أن لا يبقي مسلم أو ذمي آمناً بالأمان الأول، أن لا يبقي فيها مسلم أو ذمي آمناً على نفسه إلا بأمان المشركين، وقالا: إذا أجروا فيها أحكام الشرك فإنها تصير دار الحرب، سواء كانت متصلة بدار الحرب أو لم تكن، بقي فيها مسلم أو ذمي آمناً بالأمان الأول أو لم يبق

(خزانة المفتين بحوالة مجموعة الفتاوى: ۱/۱٤۰، كتاب العلم والعلماء، آرام باغ كراچي).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

وذكر الحلواني: إنما تصير دار الحرب بإجراء أحكام الكفر، وأن لا يحكم فيها بحكم من أحكام الإسلام، وأن يتصل بدار الحرب، وأن لا يبقى فيها مسلم ولا ذمي آمناً بالأمان الأول

فإذا وجدت الشرائط كلها صارت دار الحرب، وعند تعارض الدلائل والشرائط يبقي ما كان على ما كان أو يترجح جانب الإسلام احتياطا. (الفتاوى البزازية بهامش الهندية: ٦/۳۱۲، كتاب السير).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

إذا أجري أهل الحرب في بلدة من بلاد أهل الإسلام أحكام أهل الحرب، تصير دار الحرب كيف ما كان. (فتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۳/۵۸٤).

بدائع الصنائع میں ہے:

لا خلاف بين أصحابنا في أن دار الكفر تصير دار الإسلام بظهور أحكام الإسلام فيها واختلفوا في دار الإسلام أنها بماذا تصير دار الكفر، قال أبو حنيفة رحمه الله: إنها لا تصير دار الكفر إلا بثلاث شرائط: أحدها ظهور أحكام الكفر فيها، والثاني: أن تكون متاخمة لدار الكفر، والثالث: أن لا يبقى فيها مسلم ولا ذمي آمناً بالأمان الأول وهو أمان المسلمين، وقال أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله: إنها تصير دار الكفر بظهور أحكام الكفر فيها. (بدائع الصنائع: ۷/۱۳۰، سعيد).

فتاوی شامی میں ہے:

لو أجريت أحكام المسلمين وأحكام أهل الشرك لا تكون دار حرب.
وفي الدر المختار: ودار الحرب تصير دار الإسلام بإجراء أحكام أهل الإسلام فيها كجمعة وعيد وإن بقي فيها كافر أصلي وإن لم تتصل بدار الإسلام، درر. (فتاوى الشامي مع الدر المختار: ٤/۱۷۵، سعيد).

ایضاح النوادر میں ہے:
دار الجمہوریہ ایسی حکومت کو کہا جاتا ہے جہاں کا اقتدار نہ کلی طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور نہ ہی غیر مسلموں کے ہاتھ میں، اسی طرح ایوانِ بالا کے قریب قریب تمام ہی افراد نہ مسلمان ہوں اور نہ غیر مسلم، بلکہ مسلم و غیر مسلم کے درمیان مشترک طور پر حکومت چلانے اور وطنی حقوق حاصل ہونے میں قانونی طور پر معاہدہ ہو، اور ہر فریق کے افراد کو الیکشن لڑ کر کلیدی عہدہ حاصل کرنے اور نظام حکومت میں حصہ لینے کا پوری طرح حق حاصل ہو، اگر چہ کسی ایک قوم کی اکثریت کی وجہ سے ایوانِ بالا کے افراد بھی اسی قوم کے زیادہ ہوں مگر حق رائے دہی ہر ایک کو برابری کے ساتھ حاصل ہوتا ہو، اور ہر قوم کو اپنے اپنے مذہبی معاملہ میں کلی طور پر آزادی حاصل ہو، تو ایسی حکومت کو نہ دار الاسلام کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی دار الحرب، بلکہ دار الجمہوریہ کہا جا سکتا ہے، نیز دار الامن یا دار العہد یا سیکولر ملک سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے۔ (ایضاح النوادر: ۱/۸۸)۔

وللاستزادة انظر: (الفقه الإسلامي وأدلته: ۸/۳۹، دار الفكر. والفتاوى الهندية: ۲/۲۳۲. وجديد فقهي مسائل: ٤/۷۲. ۷٤. جديد فقهي مباحث: ۲/۳۵۳، ۳۷۲، ٤۷۳، ٤۷٤).

جمہور کے نزدیک دار الحرب میں بھی سود لینا ناجائز ہے۔ ملاحظہ ہو اعلاء السنن میں ہے:

فقد اشتهر عن مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله وأحمد رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وغيرهم من جماهير الفقهاء تحريمهم الربا بين المسلم والحربي في دار الحرب،

وقد اتفقت الأمة على أن الخروج من الخلاف مستحب قطعاً، لأن خلاف الأئمة لا سيما خلاف جمهورهم يورث الشبهة في الجواز، وقد قال النبي ﷺ: "الحلال بين والحرام بين وبينهما شبهات، فمن اتقي الشبهات فقد استبرأ لدينه" لا سيما وكون الهند دار الحرب، عند الإمام محل نظر بعد، فالشبهة إذن قوية غير ضعيفة، والتوقي عنه واجب من غير ريبة. (إعلاء السنن: ۱٤/۳۷۹، إدارة القرآن).

اسی طرح جنوبی افریقہ کو دار الحرب کہنا محل نظر اور حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔
امداد المفتین میں ہے:
حضراتِ صحابہ اور تابعین اور ائمہ اسلام نے سود کے بارے میں ہمیشہ احتیاط کی جانب کو اختیار کیا ہے، خود فاروقِ اعظم رضي الله عنه فرماتے ہیں: "
فدعوا الربا والريبة". (رواه ابن ماجه في باب التغليظ في الربا)
یعنی سود کو بھی چھوڑ دو اور اس کے شبہ کو بھی، نیز شعبی رحمه الله حضرت فاروقِ اعظم رضي الله عنه سے روایت فرماتے ہیں: "
تركنا تسعة أعشار الحلال مخافة الربا". (مصنف عبد الرزاق: ۸/۱۵۲، باب طعام الأمراء واكل الربا).
لہذا کفار کے بینکوں سے سود لینے کے متعلق بھی علمائے محققین کا فتوی بنظر احتیاط اسی پر ہے کہ جائز نہیں ہے۔ (امداد المفتین: جلد دوم، ص۷۰۵)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی حقانیہ: ٦/۲۰۹۔ و عزیز الفتاوی: ۱/٦۲۱، ٦۲۳۔ و امداد الفتاوی: ۳/۱۵۳، ۱۵۹۔ و کفایت المفتی: ۸/۷۵۔ ایضاح النوادر: ۱/۹۷)۔
خلاصہ یہ ہے کہ جنوبی افریقہ نہ دار الاسلام ہے اور نہ دار الحرب ہے بلکہ دار الامن ہے، بنا بریں غیر مسلم بینک سے سود لینا ناجائز ہے۔ آج کل مسلمان غیر مسلم ممالک میں بود و باش رکھنے کو اپنے مسلم ممالک پر ترجیح دیتے ہیں، اور اپنے آپ کو غیر مسلم ممالک میں محفوظ و مامون سمجھتے ہیں، تو ان ممالک میں سود لینا کب جائز ہوگا، گویا کہ سکونت کے لیے مسلم ممالک سے بہتر اور سود کھانے کے لیے دار الحرب۔ یہ ایک قسم کا خداع اور دھوکہ ہے جو شریعت کی نگاہ میں صحیح نہیں ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.