گراج کارڈ اور اس کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #170Urdu

Question

ایک کمپنی لوگوں کو گراج کارڈ دیتی ہے اس طور پر کہ جب لوگ اس کارڈ کے ذریعہ پٹرول خریدیں گے تو کمپنی گراج کو خود بل ادا کر دے گی، پھر کمپنی مہینے کے آخر میں حساب لگا کر خریدار سے ۱۵ فیصد مزید رقم وصول کرے گی، اس طرح مزید رقم ادا کرنا بھی ادا کرنا بھی ضروری ہو گا کیا اس طرح کے معاملے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

Answer

گراج کارڈ کا عام طریقہ کار یہ ہے کہ اس کے ذریعہ پٹرول ڈالتے رہو اور ہر مہینے کے آخر میں پورا اسٹیٹ منٹ آپ کو مل جائے گا اور جتنا آپ نے پٹرول ڈالا تھا اسی کے مطابق رقم ادا کرنا ہے ادا کرنا ہے مزید ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ طریقہ تو ٹھیک ہے کیوں کہ کوئی سود وغیرہ مزید عائد نہیں ہوا جتنا قرض لیا اتنا ادا کر دیا، لیکن صورتِ مسئولہ میں چونکہ ۱۵ فیصد مزید لینے کا ذکر ہے اگر یہ صورتِ حال ہو تو اس کی گنجائش نہیں ہے یہ صریح سود ہے ۔ ہاں اگر کمپنی کی طرف سے یہ مہلت مل جائے کہ مثلاً ایک ماہ کے اندر ادا کر دی تو کوئی اضافی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر مہینے کے بعد ادا کرے تو ۱۵ فیصد مزید ادا کرنا ہو گا تو اس کی گنجائش ہو گی اس طرح کہ سود تک پہنچنے کی نوبت نہ آنے دے اور متعینہ مدت میں ادا کرتا رہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی عثمانی میں ہے:
جب کارڈ کو استعمال کیا جائے تو مقررہ مدت کے اندر اندر بل کی ادائیگی کا اہتمام ضروری ہے، تاکہ سود نہ لگے، اور اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ Direct Debitکا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی کارڈ والے براہِ راست آپ کے بینک سے بل کی رقم وصول کر لیں، تاکہ غیر ارادی طور پر بھی تاخیر کی وجہ سے سود عائد نہ ہو ۔ (فتاوی عثمانی:
۳
/
۳۵۳
) ۔
در مختار میں ہے:

وما يصح ولا يبطل بالشرط الفاسد لعدم المعاوضة المالية

القرض والهبة. وفي الشامية: (قوله القرض) كأقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني سنة، وفي البزازية: وتعليق القرض حرام والشرط لا يلزم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۲٤۹، باب ما يبطل بالشرط الفاسد، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
مادہ جانور کو ادھیا پر دینے کا حکم:
سوال: بعض لوگ کسی کو جانور دیتے ہیں اور یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس جانور کے چارہ اور رکھنے کی ذمہ داری آپ پر ہو گی اور دودھ اور بچے آدھے آدھے ہوں گے، اس طرح معاملہ صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب: بعض حضرات اس معاملہ کو عرف کی وجہ سے جائز کہتے ہیں، اس کا ناجائز ہونا قفیز الطحان پر قیاس کی وجہ سے تھا، اب عرف کی وجہ سے یہ جائز ہے کیوں کہ عرف قیاس پر غالب ہے، اور بعض حضرات اس کو ناجائز فرماتے ہیں کہ عرفِ عام نہیں ہوا، اور جواز کی یہ تدبیر کرتے ہیں کہ مالک اپنے جانور کا آدھا حصہ جانور رکھنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور قیمت معاف کر دے تو جانور مشترک ہو جائے گا، اور اس کے بعد دودھ اور بچے سب مشترک ہو جائیں گے ۔ مستفاد از ایضاح المسائل، ص ۱۵۸ ۔ لیکن اس طریق پر یہ اشکال ہے کہ اگر پرورش کرنے والا پرورش سے انکار کر دے کہ میں اس جانور کو فروخت کر کے قیمت تقسیم کرنا چاہتا ہوں یا پرورش میں اصل مالک سے نصف حصہ مانگ لے تو مالک بظاہر اس کے لیے تیار نہیں ہو گا ۔ اس لیے عرف کی وجہ سے اس کو جائز کہنا ہی مناسب ہے ۔

باب

(۲)
مصارف ربا كا بيان

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.