کافر سے سودی مال حاصل کرنے کا حکم:

13 min readFatwa Vol 5 #171Urdu

Question

اگر کسی کافر کے پاس سود کا مال آیا تو اس کی ملکیت میں داخل ہوا یا نہیں؟ اگر کافر نے کسی مسلمان کو سودی مال کا ہدیہ پیش کیا تو مسلمان کے لیے لینے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی مسلمان سودی مال کا ہدیہ دے تو کیا حکم ہے؟
بينوا بالتفصيل تو جروا باجر جزيل.

Answer

مسلمان کے پاس سود کا مال آ جائے تو مسلمان اس کا مالک نہیں بنتا بلکہ اس کو لوٹانا ضروری ہے اگر مال کا مالک معلوم ہو تو مالک کو واپس کر دے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے، اور اس مال کو ایک وبال اور مصیبت سے سبک دوشی سمجھ کر صدقہ کر دیا جائے پھر یہ رقم کسی مستحق فقیر مسکین جو صاحبِ نصاب نہ ہو دینا جائز اور درست ہے، لیکن سودی مال کا ہدیہ قبول کرنا جائز اور درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها، لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵، كتاب الكراهية، فصل في البيع، سعيد).

لیکن اگر کافر کے پاس سود کا مال آیا تو کافر اس کا مالک بن جائے گا اور اس سے ہدیہ قبول کرنا جائز اور درست ہو گا، جب تک کہ وہ حرام عقلی و قبیح عقلی کا ارتکاب نہ کرے، مثلاً خداع، چوری، ڈاکہ وغیرہ ۔ ہاں کفار کو دار الاسلام میں اسلامی حکومت ربا کی اجازت نہیں دے گی ۔
اس مسئلہ کا اصل مدار اس پر ہے کہ کفار مخاطب بالفروع ہیں یا نہیں، اور اس میں فقہاء کے مابین اختلاف ہے، بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ وہ ابتداء ً فقط مخاطب بالایمان و العقوبات ہیں، مخاطب بالمعاملات نہیں ہیں، جب کہ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ کفار مخاطب بالمعاملات ہیں، بہرحال کفار سود کی رقم کے مالک ہیں، یہی ظاہر ہوتا ہے ۔
مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله نے احکام القران میں تحریر فرمایا ہے:

تحقيق أن الكفار مخاطبون بالفروع أم لا؟
الكفار مخاطبون بالإيمان إجماعاً، وكذا بالمشروع من العقوبات والمعاملات، وكذا بالفروع وعامة الشرائع في حكم المؤاخذة في الآخرة بلا خلاف، ذكره في المنار وغيره، وأما في وجوب الأداء في أحكام الدنيا فالصحيح أنهم غير مخاطبين به، وما نسب إلى أهل العراق من مشايخنا وإلي الأكثر من أصحاب الشافعي رحمه الله من كونهم مخاطبين بوجوب الأداء في الدنيا فهو مؤول بأنهم مأمورون بأن يومنوا ثم يصلوا كما في عامة كتب الأصول، وذهب البخاريون إلى أنهم مكلفون بالفروع في حق الاعتقاد فقط والصحيح المؤيد بالنصوص والآيات هو ما ذهب إليه الجمهور أنهم مخاطبون باعتقاد الشرائع وكذا بأدائها باستجماع شرائطها منها تقديم الإيمان. (أحكام القرآن: ۱/۱۱، ۱۲. وكذا في الشامي: ٤/۱۲۸، سعيد).

حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله فقہی عبارات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
عبارتِ مذکورہ سے امور ذیل مستفاد ہوئے: ۔
(۱) امام زفر رحمه الله کے نزدیک تمام خطابات عامہ واردہ فی الشرع دربارۂ معاملات کفار کو بھی شامل ہیں خواہ وہ حربی ہوں یا ذمی اور عمومی خطاب کی وجہ سے حکم بھی عموماً ثابت ہو گا لہذا جو معاملات کفار اہل حرب و اہل ذمہ خلاف شرع کریں گے، ان پر حکم فساد لگایا جائے گا، گو اہل حرب سے بوجہ عدمِ ولایت و اہل ذمہ سے بوجہ معاہدہ کے تعرض نہ کیا جائے گا ۔
(۲) صاحبین رحمه الله کے نزدیک اہل حرب کے معاملات خلافِ شرع ہیں ہر ایک پر حکم فساد نہ لگایا جائے گا کیوں کہ انہوں نے احکام اسلام کا التزام نہیں کیا گویا ثبوتِ حکم کے لیے ان کے نزدیک عموم خطاب کافی نہیں بلکہ التزام بھی شرط ہے اور وہ اہل حرب میں مفقود ہے لیکن اہل ذمہ کے جو معاملات اسلام کے مسائل متفق علیہا کے خلاف ہوں گے ان پر حکمِ فساد لگایا جائے گا کیوں کہ وہ معاملات میں احکام اسلام کا التزام کر چکے ہیں ۔ (لیکن موجود ہ دور میں کفار کے اکثر ممالک کو دار الامن سے موسوم کیا جاتا ہے ان ممالک میں کفار نے مسلمانوں کے احکام کا التزام نہیں کیا ہے، لہذا یہ حکم ان ممالک میں جاری نہ ہو گا، بنا بریں بہر صورت کافر سود کا مالک قرار دیا جائے گا) ۔
(۳) امام اعظم رحمه الله کے نزدیک اہل ذمہ کے بھی معاملات خلافِ شرع پر حکم فساد نہ لگایا جائے گا، بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیوں کہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکام اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا، ہاں اگر کسی معاملہ کی بابت معاہدہ ہی میں ان سے شرط کر لی جائے اس کا التزام ان کی طرف سے ہو گا، باقی معاملاتِ شرعیہ جو ان کے معتقدات کے موافق نہیں اور نہ ان سے ان کے بارے میں کوئی شرط کی گئی ہے، ان میں اہل ذمہ کی طرف سے التزام نہیں پایا گیا لہذا ایسے معاملات جب وہ اپنے مذہب کے موافق کریں گے تو ان کو صحیح مانا جائے گا اور حکم فساد نہ دیا جائے گا ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳۹۰، معاملات المسلمین باہل الکتاب و المشرکین) ۔
چند اشکالات اور ان کے جوابات:
اشکال (۱): فقہاء کے نزدیک جب کفار مخاطب بالفروع اور بالمعاملات بھی ہیں تو پھر ربا میں ان کا حکم ہماری طرح ہونا چاہیے ہونا چاہیے، جیسا کہ المنار وغیرہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے ۔
حيث قال: والكفار مخاطبون بالأمر بالإيمان وبالمشروع من العقوبات والمعاملات. وفي نور الأنوار: وأما المعاملات فهي دائرة بيننا وبينهم فينبغي أن نعامل معهم حسب ما تعاملنا بيننا في البيع والشراء والإجارة وغيرها سوى الخمر والخنزير فإنهما مباحان لهم، لا لنا. (نور الأنوار، ص ۵۹، ٦۰).

لہذا اگر کوئی معاملہ خلافِ شرع کر کے روپیہ حاصل کریں تو یہ روپیہ حلال نہ ہونا چاہیے ہونا چاہیے؟
الجواب: اس کا جواب حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے آگے کی عبارت میں دیا ہے، ملاحظہ ہو:
جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب بالفروع فی العقوبات و المعاملات اگر چہ ہیں لیکن حکم بالحرمۃ و الفساد کے لیے خطاب عام کافی نہیں، بلکہ التزام بھی شرط ہے، اہل حرب نے تو احکامِ اسلام کا التزام بالکل نہیں کیا، نہ اپنے معتقد کے موافق میں اور نہ مخالف میں، لہذا وہ تو جس طرح بھی روپیہ کمائیں خواہ ربا سے خواہ غصب سے خواہ بیوعِ باطلہ و فاسدہ سے خواہ اپنے مذہب کے موافق خواہ مخالف طریق سے بہر صورت وہ روپیہ وغیرہ ان کی ملک میں داخل ہو جائے گا، اور مسلمان کو تنخواہ میں لینا اس کا جائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳۹۹، معاملات المسلمین باہل الکتاب و المشرکین) ۔
اشکال (۲): ربا کا مال کھانے کے بارے میں نصوص عام ہیں، چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم تو پھر یہاں کافر سے سود کا مال لینا کیسے جائز ہو گا؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عقد (جنسی، قدری چیزوں) میں بلا عوض زیادہ لینا ربا کہا جاتا ہے، مثلاً ۱۰۰ رینڈ قرضہ دیا اور ایک مہینے کے بعد ۱۵۰ رینڈ واپس لینے کی شرط لگائی یہ ربا ہے ۔
سید شریف جرجانی رحمه الله فرماتے ہیں:

الربا: هو في اللغة: الزيادة، وفي الشرع: هو فضل خالٍ عن عوض شرط لأحد العاقدين. (التعريفات، ص ۱۱۲).

یہ کسی کے نزدیک جائز نہیں ہے، بالاتفاق حرام ہے ۔ مگر صورتِ مسئولہ میں ایسا نہیں ہے بلکہ کافر مال کا مالک بن گیا اور وہ مسلمان کو اپنی ملکیت دے رہا ہے تو اس میں بظاہر کوئی وجہ عدمِ جواز کی نہیں، کیوں کہ آدمی اپنی مملوکہ چیز میں جس طرح تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے ۔
عطر ہدایہ میں ہے:
سود و ہر وہ زیادتی حقیقی یا حکمی جو عقد میں بلا عوض مشروط ہو، اور قرض انتہاء ً معاوضہ ہے لہذا قرض دے کر نفع وصول کرنا حرام ہوا، ہدیہ وغیرہ میں عوض کا کوئی ذکر نہیں ہوتا اس لیے اگر ہدیہ قبول کرنے والے نے کچھ ہدیہ سے زیادہ واپس کیا تو یہ زیادتی حلال ہے، اور شرط لگائے بغیر جو کچھ لیا یا دیا جائے اس سے سود کا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ احسان و تبرع ہے ۔ (عطر ہدایہ، ص ۱٦۵) ۔
اشکال (۳): اگر کوئی اشکال کرے کہ سود کمانے کا یہ آسان طریقہ ہے کہ کافر سے سود لیلو تو حلال ہو گا مثلاً کوئی کمپنی والا کسی کافر کو اجیر خاص کے طور پر رکھے اور اس سے کہے کہ آپ معاملات کرتے رہو اور سود کماتے رہو پھر وہ سود میرے لیے جائز ہو گا اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: کافر سے سودی مال حاصل کرنا جائز نہیں، جیسا کہ گزر چکا، لیکن اگر کافر نے سود حاصل کیا اور وہ مالک بھی بن گیا پھر بلا کسی عوض مسلمان کو ہدیہ دینا چاہے یا مسلمان ملازم کی تنخواہ میں دینا چاہے تو یہ جائز ہے کیوں کہ سود کا مالک بننا مسلمان کے لیے حرام ہے کافر کے لیے کوئی وجہ حرمت نہیں ہے، جب وہ سود کا مالک بن گیا تو پھر اپنا مال چاہے تو خود استعمال کرے یا کسی دوسرے کو ہدیہ دے دے ۔
اشکال (٤): صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سود کا لین دین ان کے معاملات سے مستثنی ہے اس کو کفار کے لیے بھی حلال نہیں کہہ سکتے اس کا کیا جواب ہے؟
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

والربا مستثني عن عقودهم لقوله عليه السلام: الا من أربي فليس بيننا وبينه عهد. (الهداية: ۲/۳۳۸).

مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے:

عن الشعبي قال: كتب رسول الله ﷺ إلى أهل نجران وهم نصاري "أن من بايع منكم بالربا فلا ذمة له". (مصنف ابن أبي شيبة: ۲۰/۵۵۷).

الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ سر براہِ مملکتِ اسلامیہ کو ذمیوں کے لیے سودی کاروبار کی اجازت نہیں دینی چاہیے، لیکن فی نفسہ اگر سود ان کے نزدیک درست ہو اور وہ لے لیں تو غیر مسلم اس مال کے مالک قرار دیے جائیں گے، آج کل کوئی اسلامی حکومت ایسی نہیں جو کسی کو ربا سے روکتی ہو لہذا اگر غیر مسلم آپس میں ربا کا لین دین کریں تو وہ اس مال کے مالک ہوں گے ۔
ابو عبید قاسم بن سلام اپنی کتاب "الاموال" میں فرماتے ہیں:

قوله: ومن أكل منهم الربا فذمتي منه بريئة لا نراه غلظ عليهم أكل الربا خاصة من بين المعاصي كلها ولم يجعله لهم مباحاً وهو يعلم أنهم يرتكبون من المعاصي ما هو أعظم من ذلك من الشرك وشرب الخمر وغيره إلا دفعاً عن المسلمين وألا يبايعوهم به فيأكل المسلمون الربا، ولولا المسلمون ما كان أكل أولئك الربا إلا كسائر ما هم فيه من المعاصي، بل الشرك أعظم. (الاموال: ۱/٤٦٦، بيروت. والأموال لابن زنجوية: ۲/۱۰۳. وذكره عن أبي عبيدة الزيلعي في نصب الراية: ۳/۲۰۳).

اعلاء السنن میں ہے:

ولنا أن حرمة الربا ثابتة في حقهم، وهو مستثنى من العهد فإن النبي ﷺ كتب إلى نصاري نجران من أربي فليس بيننا وبينه عهد وكتب إلى مجوس هجر: إما أن تدعوا الربا أو تأذنوا بحرب من الله ورسوله، فالتعرض لهم في ذلك بالمنع لا يكون غدراً بالأمان كذا في المبسوط (۱٤/۵۸) وقد تقدم في شروط أهل الذمة من كتاب الجهاد ما يدل على نهيه ﷺ والخلفاء الراشدين أهل الذمة عن الإرباء في دار الإسلام وأيضاً: فإنما تثبت العصمة في حق الأحكام بالإحراز والإحراز بالدار لا بالدين، لأن الدين مانع لمن يعتقده حقاً للشرع دون من لا يعتقده ولقوة الدار يمنع عن ماله من يعتقد حرمته ومن لم يعتقده كما في المبسوط: (۱٤/۵۸) أيضاً فالاعتبار بالدار، هو الصحيح. (إعلاء السنن: ۱٤/۳۵۲. والمبسوط: ۱٤/۵۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.