سیاسی پارٹی میں تعاون کے لیے سودی رقم دینے کا حکم:
Question
ہمارے یہاں بار بودوس میں الیکشن ہوا تھا ایک مسلمان ادارے نے مالی تعاون کے ذریعہ اس میں کسی پارٹی کا ساتھ دینا چاہا، اس مسلمان ادارے نے اس پارٹی کے تعاون کے لیے مسلمان بھائی بہنوں سے چندہ کیا اور مسلمانوں سے سود کی رقم بھی حاصل کی، اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلمان کے لیے جائز ہے کہ سیاسی پارٹی کی خاطر سود کے پیسے کو جمع کرے؟ اگر جائز نہیں تو جو رقم جمع کر کے دے دی گئی اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
سود کی رقم رفاہِ عام میں خرچ کرنے کے متعلق علماء کا اختلاف ہے جو پہلے مذکور ہوا، البتہ صورتِ مسئولہ میں چونکہ مالی تعاون کرنے میں غیر مسلم ملک میں عام مسلمانوں کا مفاد وابستہ ہے، اور غیر مسلم حکومت ہونے کی وجہ سے اس طرح سود کی رقم جمع کر کے تعاون کر دیا جائے مسلمان خود استعمال نہ کریں تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
سوال: کیا سود کی رقم دینی تعلیم، رفاہِ عام اور مسلمان فقراء پر خرچ کی جا سکتی ہے؟
جواب: سود کی رقم وصول کر کے مساکین وغیرہ پر قرضدار مسلمانوں کے قرضہ کی ادائیگی پر تعلیم (پرائمری یا دینیات) پر اور ہر رفاہِ عام کے کام پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/٦۸) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
بینک کے سود کے سلسلہ میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نہ اس کو اپنی ذات پر خرچ کیا جا سکتا ہے اور نہ صدقہ میں دیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں ان میں صرف کیا جا سکتا ہے مثلاً کسی ضرورت مند کی انفرادی ضرورت کی تکمیل کسی اجتماعی فائدہ کا کام کر دینا جیسے کنواں کھودنا وغیرہ، مسجدوں اور مدارس میں تو یہ رقم نہ لگائی جائے لیکن بیت الخلاء کی تعمیر کی علماء نے اجازت دی ہے ۔ (جدید فقہی مسائل، جلد اول، ص ۲۵۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۲/۹۰ ۔ و احسن الفتاوی: ۷/۱٦) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ بہت سارے علماء تملیکِ فقراء کو ضروری سمجھتے ہیں اس لیے تملیک فقیر کے بعد اس قسم کے کاموں میں خرچ کرنے میں اختلاف سے نکلنا ہوگا، اور بالاتفاق درست ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2039
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2039