لائسنس حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #219Urdu

Question

ایک آدمی ڈرائیور لائسنس کے لیے جب بھی جاتا ہے اس کو ناکام کیا جاتا ہے، معلوم ہوا کہ رشوت کے بغیر وہ کبھی کامیاب نہیں کرتے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس حال میں رشوت دینے کی شرعاً اجازت ہو گی یا نہیں؟

Answer

اگر وہ شخص گاڑی چلانا اچھی طرح جانتا ہے نیز راستوں کے قوانین وغیرہ سے بھی واقف ہے، اس کے باوجود لائسنس لینے میں کامیاب نہیں ہوتا، اور رشوت دیے بغیر چارۂ کار نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں رشوت دینے سے امید ہے کہ آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہو گا، لیکن رشوت لینا بہرحال ممنوع اور ناجائز ہے ۔
جامع الترمذی میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ الراشي والمرتشي. (جامع الترمذي: ۱/۲۴۸).

ہدایہ میں ہے:

ودفع الرشوة لدفع الظلم أمر جائز. (الهداية: ۳/۲۴۵).
قال الجرجاني رحمه الله في التعريفات: الرشوة: ما يعطي لا إبطال حق أو لا حقاق باطل. (التعريفات، ص ۱۱٤، والتعاريف للمناوي، ص ۳٦۵).
أو المال الذي يعطي بمقابلة الواجب.
أو ما يأخذه الآخر ظلماً.
أو أخذ الأموال على فعل ما يجب على الآخذ فعله أو فعل ما يجب عليه تركه. (تفسير البحر المحيط: ٤/۵۳۳، ودستور العلماء: ۲/۱۳٦).

فتح القدیر میں ہے:

(قوله ودفع الرشوة لدفع الظلم أمر جائز ) هذا دليل عقلي على ما ذهب إليه أئمتنا من جواز الصلح من إنكار أو سكوت أيضاً متضمن للجواب عن دليل عقلي للشافعي رحمه الله مذكور فيما قبل، وهو قوله ولأن المدعي عليه يدفع المال لقطع الخصومة، وهذا رشوة، قال الشراح: لا يقال لا نسلم جواز دفع الرشوة لدفع الظلم لأن قول النبي ﷺ: "لعن الله الراشي والمرتشي" عام لا نا نقول: هذا الحديث محمول على ما إذا كان على صاحب الحق ضرر محض في أمر غير مشروع، كما إذا دفع الرشوة حتى أخرج الوالي أحد الورثة عن الإرث وأما إذا دفع الرشوة لدفع الضرر عن نفسه فجائز للدافع، انتهى، واعترض بعض الفضلاء على الجواب حيث قال فيه، إن المعتبر هو عموم اللفظ وما الدليل على أنه محمول على ما ذكر غير مجري على عمومه انتهى، أقول: الدليل عليه ما ورد من النصوص في أن الضرورات تبيح المحظورات منها قوله تعالى: ﴿وما جعل عليكم في الدين من حرج﴾ ولاشك أن في دفع الضرر عن نفسه دفع الحرج. (تكملة فتح القدير: ۸/٤۰۸، كتاب الصلح، دار الفكر).
تبيين الحقائق
میں ہے:

ولو قلنا إنه رشوة فهي جائزة للدافع لدفع الظلم عن نفسه وما جاء فيه من الذم من قوله عليه الصلاة والسلام: "لعن الله الراشي والمرتشي، المراد به إذا كان هو الظالم فيدفعها إلى بعض الظلمة من ولاة الأمور يستعين به على الظلم بالرشوة وأما لدفع الضرر عن نفسه فلا شبهة فيه حتى روي عن أبي يوسف رحمه الله أنه أجاز ذلك للوصي من مال اليتيم أيضاً لدفع الضرر عن اليتيم، ألا تري أن الخضر عليه السلام خرق السفينة كيلا يأخذها الظالم وما كان مراده بذلك إلا الإصلاح والله يعلم المصلح من المفسد. (تبيين الحقائق: ۵/۳۱، كتاب الصلح، ملتان).
البحر الرائق
میں ہے:

ومنها إذا دفع الرشوة خوفاً على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع وكذا إذا طمع في ماله فرشاه ببعض المال ومنها إذا دفع الرشوة ليسوي أمره عند السلطان حل له الدفع ولا يحل للآخذ أن يأخذ. (البحر الرائق: ٦/۲٦۲، كتاب القضاء، كوئته).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

إذا دفع الرشوة لدفع الجور عن نفسه أو أحد من أهل بيته لم يأثم. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۰۳).
فتاو
ی شامی میں ہے:

ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال لدافع حرام على الآخذ، لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب. (فتاوى الشامي: ۵/۳٦۲، كتاب القضاء، سعيد).
وكذا في (رسائل ابن نجيم الاقتصادية، ص ۲۰۰، وتكملة رد المحتار: ۲/۲۲۲).

کتاب الفتاوی میں ہے:
اگر کام کرنے والے پر آپ کا حق ہو کہ وہ اس کام کو کرے نیز جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ کام جائز بھی ہو اور اس کا مقصود دوسروں کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہو تو اپنا جائز حق حاصل کرنے اور ظلم و نا انصافی سے بچنے کے لیے کراہت خاطر کے ساتھ رشوت دینے کی گنجائش ہے، لیکن رشوت لینا بہر صورت حرام ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٦/۲٤۵) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
رشوت کا دینا لینا حرام ہے البتہ دفع ظلم اور اپنا حق وصول کرنے کے لیے بحالتِ مجبوری رشوت دینے کی گنجائش ہے اس صورت میں فقط رشوت لینے والا گنہگار ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۸/٤۵۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
بعض لوگ رشوت دے کر نوکری حاصل کرتے ہیں، جب کہ رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، لیکن بعض آدمی رشوت دینے پر مجبور ہوتے ہیں اس کے بغیر نوکری کا حصول مشکل ہو جاتا ہے، سرکاری افسران رکاوٹ ڈالتے ہیں، ایسی صورت میں دفعِ ظلم کے لیے رشوت دی جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالی مواخذہ نہیں فرمائیں گے، باقی رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس کی تنخواہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اس ملازم میں کام کی اہلیت موجود ہے اور کام اس کے سپرد کیا گیا اس کو ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں یا کام ٹھیک انجام نہیں دیتا تو تنخواہ حلال نہیں ہو گی ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۷۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.