لاٹری کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
اس ملک میں اور دیگر ممالک میں یہ طریقہ رائج ہے کہ عام طور پر دکانوں پر نمبر کی پر چیاں بکتی ہیں، لوگ ان کو خریدتے ہیں اور چند نمبرات پر نشاندہی کرنے کے بعد واپس کرتے ہیں، اگر نشاندہی والے نمبرات ان کے مخصوص نمبرات کے ساتھ موافق ہو گئے تو بطورِ انعام بڑی رقم ملتی ہے، تو کیا اس رقم کو حاصل کرنا اس طریقہ پر جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ پر چیاں مختلف قیمتوں میں بکتی ہیں مثلاً بعض ۵۰ رینڈ میں اور بعض ۱۰۰، ۲۰۰ رینڈ میں ۔ اسی طرح دیہاتوں میں بچے گوٹی (ماربل) کھیلتے ہیں، اس کا بھی یہ طریقہ ہوتا ہے کہ سب اپنی گوٹیاں ایک دائرہ میں رکھتے ہیں، اور باری باری اس پر نشانہ لگاتے ہیں جس کا نشانہ صحیح نکلا وہ سب لے لیتا ہے اور باقی سب محروم ہوتے ہیں، از روئے شریعت یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ دونوں طریقے ناجائز اور حرام ہے، اس لیے کہ اس میں تعلیق الملک علی الخطر ہے اس طور پر کہ ایک جانب سے ادائیگی یقینی ہے اور دوسری طرف موہوم اور مشکوک ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں ۔
قال الله تعالى: ﴿إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون﴾. (سورة المائدة).
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله حرم على أمتي الخمر والميسر. (مسند الامام احمد بن حنبل رحمه الله: برقم ٦۵۱۱).
احکام القرآن میں امام جصاص رحمه الله فرماتے ہیں:
قال قوم من أهل العلم القمار كله من الميسر
وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لا يحظى بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر، وحقيقته تمليك المال على المخاطرة، وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار. (أحكام القرآن: ۲/٤٦۵، سهيل اكيڈمي).
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
وقال عطاء وطاؤوس ومجاهد حتى لعب الصبيان بالكعاب والجوز. (أحكام القرآن: ۱/۳۲۹).
قال الفقيه أبو الليث السمرقندي رحمه الله: الميسر القمار كله حتى لعب الصبيان بالجوز والكعاب. (تفسير السمرقندي: ۱/۲۰۳).
تبیین الحقائق میں ہے:
وحرم لو شرط المال من الجانبين. (تبيين الحقائق: ٤/۳۲، ملتان).
در مختار میں ہے:
وحرم لو شرط فيها من الجانبين لأنه يصير قمارا. وفي رد المحتار: لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخري، وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۳، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
لاٹری کا ٹکٹ خریدنا جائز نہیں ہے وہ قمار ہے اور قمار حرام ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/۲۲٦، دار الاشاعت) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
جتنی بھی لاٹریاں ہمارے زمانے میں مشہور ہیں مثلاً ایرپورٹ پر گاڑی کھڑی کر رکھی ہے کہ دو سو روپے کے ٹکٹ خریدو بعد میں قرعہ اندازی کریں گے جس کا نمبر نکل آیا اس کو کار مل جائے گی یہ قمار ہے، تعلیق التملیک علی الخطر ہے اور غرر کا ایک شعبہ ہے جو حرام ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۷۷) ۔
مالی معاملات پر غرر کے اثرات میں ہے:
بعض علاقوں میں چھوٹے بچے اخروٹ یا کانچ کی گولیاں اس طرح ہار جیت کی بنیاد پر کھیلتے ہیں کہ جیتنے والا لڑکا ہارنے والے سے گولیاں یا اخروٹ لے لیتا ہے، یہ عمل قمار میں داخل ہے ۔ (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ۳۹۳) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (نظام الفتاوی: ۲/۳۰۱ ۔ فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤۳۵ ۔ جدید فقہی مسائل: ۱/٤۳۰ ۔ ایضاح النوادر: ۱/۱۲۳ ۔ و جواہر الفقہ: ۲/۳٤۸ ۔ ۳۵۰ ۔ قاموس الفقہ: ٤/۵۲٤ ۔ فتاوی بینات: ٤/۲۱٤ ۔ مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ٤۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2084
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2084