قرض میں بشرط تعجیل کمی کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #227Urdu

Question

ایک شخص کے دوسرے شخص پر ۱۰ ہزار رینڈ مؤجل ہیں مدیون نے اس سے کہا کہ تم ایک ہزار معاف کر دو میں فی الحال ۹ ہزار ادا کر دوں گا، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر شرط لگائی تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے لیکن بغیر شرط کے صلح کر لے تو یہ احسان ہے کہ دائن نے کم کر کے مدیون پر احسان کیا اور مدیوں نے جلدی ادا کر کے دائن پر احسان کیا، نیز اگر کوئی ثالث بطورِ صلح کہ دے کہ تم اتنی رقم معاف کر دو تو مدیون فی الحال ادا کر دے گا تو اس کی بھی گنجائش ہے، روایت میں آتا ہے حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد رضي الله عنه پر حضرت کعب بن مالک رضي الله عنه کا قرضہ تھا اور مسجد میں دونوں کی بحث چل رہی تھی رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور دائن سے فرمایا تم نصف معاف کر دو اور مدیون سے کہا تم فی الحال ادا کر دو ۔ مدیون نے ادا کر دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ دین مؤجل ہے یا معجل، معلوم ہوا کہ اگر مؤجل ہو تو پھر بھی بطورِ صلح یا بغیر شرط کے تعجیل کے ساتھ دین کا بعض حصہ معاف ہو سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو تکملہ رد المحتار میں ہے:

وذكر في شرح الكافي للاسبيجابي جواز هذا الصلح مطلقاً على قياس قول أبي يوسف رحمه الله لأنه إحسان من المديون في القضاء بالتعجيل وإحسان من جانب الدائن في الاقتضاء بحط بعض حقه وحسن، هذا إذا لم يكن مشروطاً في الآخر، وأما إذا شرط أحدهما في مقابلة الآخر فدخل في الصلح معاوضة فاسدة فيكون فاسداً وهكذا في غاية البيان. (تكملة رد المحتار: ۲/۲۵۳، سعيد).

لیکن اگر شرط لگائی ہے تو پھر صحیح نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

قال ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام. (الهداية: ۳/۲۵۱، باب الصلح عن الدين).
قال في التنوير وشرحه: ولا يصح (الصلح) عن دراهم على دنانير مؤجلة أوعن ألف مؤجل على نصفه حالاً لأنه اعتياض عن الأجل وهو حرام. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦٤۰).

خلاصہ یہ ہے کہ شرط نہ ہو بلکہ وعدہ ہو یعنی دائن وعدہ کرے کہ ان شاء اللہ اگر آپ نے جلدی ادا کیا تو میرا وعدہ ہے کہ نصف آپ کو واپس کر دوں گا تو یہ درست ہے ۔ اسی طرح بجائے نقد کے سامان کی شرط لگا دے، مثلاً یہ کہے کہ نصف دین کی مقدار کا سامان ادا کر دے تو پھر شرط لگانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

قال الجصاص رحمه الله في أحكام القرآن: ومن أجاز من السلف إذا قال عجل لي واضع عنك فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يعجله شرطاً فيه وذلك بأن يضع عنه بغير شرط ويعجل الآخر الباقي بغير شرط. (أحكام القرآن: ۱/٤٦۷، باب الربا).
قال ابن الرشد في بداية المجتهد: أما ضع وتعجل فأجازه ابن عباس رضي الله عنه من الصحابة وزفر رحمه الله من فقهاء الأمصار، ومنعه جماعة منهم ابن عمر رضي الله عنه من الصحابة ومالك رحمه الله وأبو حنيفة رحمه الله والثوري رحمه الله وجماعة من فقهاء الأمصار واختلف قول الشافعي في ذلك، فأجاز مالك رحمه الله وجمهور من ينكر "ضع وتعجل" أن يتعجل الرجل في دينه المؤجل عرضاً يأخذه وإن كانت قيمته أقل من دينه. (بداية المجتهد: ۲/۱۰۸ باب في بيوع الذرائع الربوية).

نیز اگر دین معجل ہو تو اس میں بھی کمی کرنے کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح عنایہ میں ہے:

ومن له على آخر ألف درهم حالة فقال: أد إلى غداً منها خمسمائة على أنك بريء من الفضل ففعل فهو بريء. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۸/٤۲۷، دار الفكر، وكذا في البناية للعيني: الجزء الثالث، ص ۵۱٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.