ولیمہ میں مشروط ہدایا کا حکم:
Question
ولیمہ وغیرہ دعوتوں میں یہ رواج ہے کہ لوگ ہدیہ جمع کرتے ہیں اور جن کی دعوت ہو وہ دعوت کے آخر میں تمام ہدیوں کا جائز ہ لیتے ہیں اور پھر اس کو قلم بند کرتے ہیں اس کا مقصد یہ ہوتا ہے جب ان کے ہاں دعوت ہو توہم کو بھی اتنا دینا ہے، اور جو لوگ ہدیہ دیتے ہیں ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ جب ہماری باری آئے گی توہم کو بھی اتنا ہدیہ ملنا چاہیے، کیا ایسے ہدایا کا لینا دینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
یہ تبرعِ مشروط ہے اور اس میں دوسری جانب سے جو دیا جاتا ہے اس کی کمی اور خراب کوالٹی کی وجہ سے کبھی ناراضگی اور غیبت ہوتی ہے، غریب لوگوں کے لیے یہ رسم وبالِ جان ہے اس لیے اس رسم سے بچنا ضروری ہے ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وماآتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله﴾ (سورة الروم: ۳۹).
تفسیر عثمانی میں ہے:
بعض مفسرین نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جو آدمی کسی کو کچھ دے اس غرض سے کہ دوسرا اس کو بڑھ کر احسان کا بدلہ کرے گا تو یہ دینا اللہ تعالی کے یہاں موجبِ برکت و ثواب نہیں گو مباح ہے ۔ (تفسیر عثمانی، ص۵٤۳) ۔
معارف القرآن میں یہ تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه اور امام شافعی رحمه الله سے منقول ہے ۔ (معارف القرآن: ٦/۱۵۸، از مولانا ادریس کاندھلوی صاحب) ۔
اصلاح الرسوم میں حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
یہ قرض مشروط کی طرح ہے کیوں کہ جب اس کی دعوت میں پیسہ دیں گے تو وہ ان کی دعوت میں بھی پیسہ دیں گے اگر چہ لفظاً نہیں کہے لیکن حسبِ قاعدہ "المعروف کالمشروط" اور یہ صحیح نہیں ۔ (اصلاح الرسوم: ٤۱) ۔
لیکن امداد الاحکام میں حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جیسا معاملہ تبرعِ مشروط ہوتا ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۸٦، ٦۰٦) ۔
ہاں تبرعِ مشروط جائز ہے لیکن بہت سارے مفاسد کی وجہ سے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2128
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2128