خواتین کا تبلیغ کرنا اور اس کے لیے سفر کرنا :

14 min readFatwa Vol 1 #215Urdu

Question

خواتین کا تبلیغ کرنا اور اس کے لیے سفر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

قرآن اور احادیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ خواتین کا تبلیغ کرنا اور اس کے لیے سفر کرنا جائز ہے، ہاں شرائط اور اصول کی پابندی ضروری ہے جس کا خاص اہتمام ملحوظ ر ہے ۔ ملاحظہ ہو:

(۱) قال الله تعالى: ﴿والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر﴾ (سورة البراء ة: ۷۱).

اس آیتِ کریمہ میں مؤمنات بھی ہے اس کے بعد امر بالمعروف و النہی عن المنکر کا ذکر ہے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی یہ کام کرنا ہے ۔

(۲)
نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿سائحات﴾ (سورة التحريم الآية: ۵).
والمعنى ذاهبات في طاعة الله من ساح الماء إذا ذهب واصل السياحة الجولان في الأرض. (فتح القدير للشوكاني: ۱۷٦۳).

لسان العرب میں ہے:

وساح في الأرض يسيح سياحة وسيوحاً وسيحاً وسيحاناً أي ذهب. (لسان العرب: ۲/٤۹۲).
المعجم الوسيط
میں ہے
:
ساح الماء ونحوه سيحا وسيحانا وسياحة: ذهب وسار. (المعجم الوسيط، ص: ٤٦۷).

المنجد میں ہے:

"ساح يسيح سيحاً وسيحاناً"
عبادت کے لیے زمیں میں پھرنا، شہروں میں پھرنا ۔ (
المنجد ۵۰۵).

اس آیتِ کریمہ میں "
سائحات"
سے مراد اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری میں سفر کرنا اور جانا ہے اس سے بھی واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں سفر کر کے تبلیغ کے لیے جا سکتی ہے ۔

(۳)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بارے میں واقعہ بہت مشہور ہے اپنی بہن کی وجہ سے اسلام سے مشرّف ہوے پھر حضرت عمر رضي اللہ عنہ کی شخصیت اسلام کے لیے ایک عظیم سوپر پاور کی حیثیت رکھتی تھی بلکہ اکثر فتوحات انہیں کے زمانۂ خلافت میں ہوئی جو خلافتِ راشدہ کا مطالعہ کرنے والوں پر مخفی نہیں ہے ۔
معلوم ہوا کہ کبھی کبھی خواتین بہت بڑی ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہیں اس لیے ان کا جماعت میں جانا خیر و بھلائی و رشد و ہدایت سے خالی نہیں، ہاں شرائط کی پابندی ضروری ہے ۔ ملاحظہ ہو:
الاستیعاب میں سعید بن زید بن عمرو رضي اللہ عنہ کے تحت مذکور ہے:

سعيد بن زيد بن عمرو رضي الله عنه القرشي العدوي هو ابن عم عمر بن الخطاب وصهره كانت تحته فاطمة بنت الخطاب أخت عمر بن الخطاب، وكانت أخته عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل تحت عمر بن الخطاب رضي الله عنه وكان سعيد بن زيد من المهاجرين وكان إسلامه قديما قبل عمر رضي الله عنه وبسبب زوجته كان إسلام عمر بن الخطاب رضي الله عنه وخبرهما في ذلك خبر حسن. (الاستيعاب لابن عبد البر: ۱/۱۸۵).
(٤)
نیز صحابیات کا فی سبیل اللہ سفر کرنا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو:
بخاری شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: لما كان يوم أحد انهزم الناس عن النبي ولقد رأيت عائشة رضي الله عنه بنت أبي بكر وأم سليم رضي الله عنه وانهما مشمّٔرتان أرى خدم سوقهما تنقزان القرب وقال غيره تنقلان القرب على متونهما ثم تفرغانه في أفواه القوم، ثم ترجعان فتملاٰنها، ثم تجيئان وتفرغانه في أفواه القوم. (صحيح البخاري: ۱/٤۰۳).

اگر کوئی شخص اس واقعہ پر اشکال کرے کہ یہ نزولِ حجاب سے پہلے کا واقعہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دوسری روایات بھی بخاری شریف میں موجود ہیں جس میں بعد نزول الحجاب صحابیات کا فی سبیل اللہ سفر کرنا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو:
بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله عنها قالت كان النبي ﷺ إذا أراد أن يخرج أقرع بين نساء ه فأيتهن يخرج سهمها خرج بها النبي ﷺ فأقرع بيننا في غزوة غزاها فخرج فيها سهمي فخرجت مع النبي ﷺ بعد ما اُنزِلَ الحجاب. (صحيح البخاري ۱/٤۳۰)

عورتوں کے فی سبیل اللہ سفر کرنے کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مستقل باب قائم فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

باب غزوة المرأة في البحر عن عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري رضي الله عنه قال سمعت أنسا يقول دخل رسول الله ﷺ على بنت ملحان فاتكأ عندها ثم ضحك فقالت لم تضحك يا رسول الله فقال ناس من أمتي يركبون البحر الأخضر في سبيل الله مثلهم مثل الملوك على الأسرة فقالت يا رسول الله ادع الله لي أن يجعلني منهم فقال: اللهم اجعلها منهم ثم عاد فضحك فقالت له مثله فركبت البحر مع بنت قرظة فلما قفلت ركبت دابتها فوقصت بها فسقطت عنها فماتت. (صحيح البخاري: ۱/٤۰۳).

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابیہ کو سفر میں جانے کی دعا فرما دی اور شریک ہوئیں اور سفر ہی میں وفات ہوئیں معلوم ہوا کہ خواتین کا سفر کرنا درست ہے اسی وجہ سے نبی پاک ﷺ نے دعا فرمائی ۔
وجہِ استدلال ملاحظہ ہو:
(۱) جہاد کی چند قسمیں ہیں: (
أ) جهاد باليد (ب) جهاد بالمال (ج) جهاد باللسان (د) جهاد بالقلب وغيره
۔

قال الله تعالى: ﴿يايها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم﴾ (سورة البراءة: ۷۳).

ابو داؤد شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: "جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم. (أبو داود: ۱/۳۳۹، باب كراهية ترك الغزو).

ترمذی شریف میں ہے:

المجاهد من جاهد نفسه في سبيل الله. (ترمذي: ۱/۲۹۱).

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

والتحقيق أن جنس الجهاد فرض عين أما بالقلب، وأما باللسان، وأما بالعمل وأما باليد فعلي كل مسلم أن يجاهد بنوع من هذه الأنواع. (زاد المعاد: ۳/۷۲).

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال على بن أبي طالب: أول ما تغلبون عليه من الجهاد، الجهاد بأيديكم، ثم الجهاد بألسنتكم، ثم الجهاد بقلوبكم فإذا لم يعرف القلب المعروف ولم ينكر المنكر نكس فجعل أعلاه أسفله. (إحياء علوم الدين: ۳/۳۰۸).

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ويقول الكاساني في بدائع الصنائع: ۹۷۷ "وفي عرف الشرع يستعمل في بذل الوسع والطاقة بالقتل في سبيل الله عز وجل بالنفس والمال واللسان أو غير ذلك" سواء كان بالسلاح أو بالمال أو بالعمل أو بالتعلم أو باللسان. (تكملة فتح الملهم: ۳/٤).

درج کردہ عبارات سے جہاد کی مختلف اقسام معلوم ہوئیں:
مثلا (۱) جهاد باليد (۲) جهاد بالعمل (۳) جهاد باللسان (٤) جهاد بالقلب وغيره.

خواتین کے لیے جب جہاد کی ایک قسم "
جهاد بالسيف"
میں نکلنا صحیح ہے اور ثابت بھی ہے تو جہاد کی دوسری قسم یعنی "
جهاد باللسان
" کے لیے بطریقِ اولیٰ درست ہے ۔
(۲) دلالۃ النص کا مطلب یہ ہے کہ حکمِ مسکوت حکمِ منطوق کے مقابلے میں اولیٰ بالحکم ہے تو جس جہاد میں جان و قید و بند ذلت و رسوائی اور غلامی کا خطرہ ہو، اس میں نکلنا ثابت اور درست ہے، تو جس میں یہ خطرات نہ ہو اس میں بطریقِ اولیٰ صحیح ہے ۔
(۳) عورت اگر جہاد میں شرکت کرے تو مالِ غنیمت میں سے کچھ دیا جائے گا ۔
مسلم شریف میں ہے:
باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم
عن ابن عباس رضي الله عنه كتبتَ تسألني هل كان رسول الله ﷺ يغزو بالنساء؟ وقد كان يغزو بهن فيداوين الجرحى ويحذين من الغنيمة وأما بسهم فلم يضرب لهن. (مسلم: ۲/۱۱٦).

ہدایہ میں ہے:

ولا يسهم لمملوك ولا امرأة ولا صبي ولكن يرضخ على حسب ما رأي الإمام. (الهداية: ۱/۵۷۵، وهكذا في الدر المختار: ٤/۱٤۷).

خواتین جب "
جهاد باللسان"
کریں گی تو آخرت میں پورے اجر و ثواب کی مستحق ہوں گی اور دنیا میں بھی خیر و برکات سے نوازی جائیں گی ۔

(۵)
جن احادیث میں تبلیغ کا امر ہے اس میں خواتین بھی شامل ہیں وجہ یہ ہے کہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ خواتین بھی شریک تھیں ۔ ملاحظہ ہو:
بخاری شریف میں ہے:

عن أبي بكرة ذكر النبي في خطبة حجة الوداع فإن دماء كم وأموالكم وأعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ليبلغ الشاهد الغائب فإن الشاهد عسى أن يبلغ من هو أوعى له منه. (صحيح البخاري: ۱/۱٦، كتاب العلم).

اس روایت میں لفظ "
من
" عام ہے جو خواتین کو بھی شامل ہے، پھر اس میں جتنے احکام بیان ہوے ہیں مثل
ا
مال، خون اور عزت کی حرمت سب میں خواتین شامل ہیں نیز علتِ حضور بتلا دی گئی اور جس کو پہنچایا جائے گا اس کی علت غائب ہونا اور یہ دونوں علتیں عورتوں کو شامل ہیں لہذا "
الا فليبلغ
" کے حکم میں بھی ضرور شامل ہیں ۔

(٦)
مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں: تبلیغی جماعت کا مقصد دین سیکھنا ہے اس کو پختہ کرنا اور دوسروں کو دین سیکھنے اس کو پختہ کرنے کے لیے آمادہ کرنا اور اس جذبہ کو عام کرنے کے لیے طویل طویل سفر بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں، جس طرح مرد اپنے دین کو سمجھنے اور دین کو پختہ کرنے کے محتاج ہیں، عورتیں بھی محتاج ہیں، اور گھروں میں عامۃً اس کا انتظام نہیں ہے،
اس لیے اگر لندن یا کسی بھی دور دراز مقام پر محرم کے ساتھ حدودِ شرع کی پابندی کا لحاظ رکھتے ہوے جائیں اور کسی کے حقوق تلف نہ ہوں تو شرعاً اس کی اجازت ہے، بلکہ دینی اعتبار سے مفید اور اہم ہے (فتاویٰ محمودیہ: ۱٤/۱۰۸) ۔

(۷)
فتاویٰ حقانیہ میں مرقوم ہے: مروّجہ تبلیغ کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ اور تعلیم و تعلّم ہے، جس کا حصول ہر مسلمان مرد و عورت کی شرعی ذمہ داری ہے اور دونوں کو تبلیغِ دین کا حق حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ بے شمار نیک خواتین قرآن و حدیث کے علوم کی ماہرات گزری ہیں اور آنحضرت ﷺ کے مبارک دور میں خواتینِ اسلام کا جہاد (بغرض علاج و معالجہ وغیرہ) میں شریک ہونا ثابت ہے اس لحاظ سے خواتین کی جہاد میں شرکت کی بنا پر تبلیغی جماعت میں خواتین کی شرکت جائز معلوم ہوتی ہے تا ہم پر دہ، محارم اور دیگر حدودِ شرع کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔ (فتاویٰ حقانیہ: ۲/٤۳۸) ۔
حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مستورات کی تبلیغ جماعت میں مجھے بذات خود اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ شرکت کا موقع ملا ۔ مستورات کے تبلیغی عمل کا میں نے خود مشاہدہ کیا ، جس میں شریعت کے تمام احکام کی مکمل پابندی کی جاتی ہے اور پر دے کے تمام احکامات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے ۔ مستورات کی تبلیغ کے سلسلہ میں تبلیغی جماعت کے اکابرین نے جو شرائط رکھی ہیں وہ مکمل شریعت کے مطابق ہیں اور ان شرائط کی پابندی نہ کرنے والی مستورات کو تبلیغی عمل میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ان تمام امور کے بعد میری سمجھ سے یہ بات بالا تر ہے کہ مستورات کی تبلیغی جماعت میں شرکت کے عدم جواز کا فتویٰ کیوں دیا جاتا ہے؟ میری رائے میں مستورات کا اس طرح تبلیغ کے لیے جانا درست اور جائز ہے ۔
مستورات کی جماعتوں کی وجہ سے ہزاروں عورتوں کی اصلاح ہو گئی ہے اور بہت سی عورتیں جو بے حجاب کھلے بندوں بے پر دہ نکلتی تھیں اور قرآن کریم نے جو
﴿تبرج الجاهلية﴾
کہا ہے اس کا پورا پورا مظاہرہ کرتی تھیں ۔ الحمد للہ !ان مستورات کو دیکھ کر، ان کے پاس بیٹھ کر اور ان کی دینی باتیں سن کر ان کی اصلاح ہو گئی ہے اور اب وہ مکمل حجاب کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ اس لیے اس ناکارہ کے نزدیک تو شرائط مرتبہ کے مطابق نہ صرف مستورات کا تبلیغ میں نکلنا جائز ہے بلکہ ضروری ہے ۔ کیونکہ مثل مشہور ہے کہ خربوزہ، خربوزے سے رنگ پکڑتا ہے ۔ ہمارے ہاں جو بے پر دگی کا عام رواج ہوا ہے اور الا ما شاء اللہ کوئی گھرانہ مشکل ہی سے اس طوفان بلا خیز سے محفوظ رہا ہوگا، اس کی ابتدا انگریز نے غیر مسلم استانیوں کے ذریعے کی اور بالآخر اس تحریک نے طوفان کی شکل اختیار کر لی ۔ اگر بشرائط معروفہ تبلیغی جماعت میں مستورات کی نقل و حرکت کو رواج دیا جائے تو ان شاء اللہ اس کے بہت مبارک اثرات ظاہر ہوں گے ۔
والله الحمد أولا وآخرًا،
مولا نا محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۔ (
البينات ص ۵۵ صفر ۱٤۱۹).

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.