مضبوط آدمی کو معلوم کا م کے لیے اجرت پر لینا:
Question
زید کا ایک مکان ہے جو مدت دراز سے عمر کے پاس کرایہ پر چل رہا ہے، عمر اس کا کرایہ ادا کرتا ہے، معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعد زید عمر کو اس مکان سے بے دخل کرنا چاہتا ہے اس لیے کہ زید کو خود اس مکان کی ضرورت ہے، عمر نکلنے کے لیے تیار نہیں، کیا زید ایک مضبوط آدمی کو اجرت مقررہ دے کر عمر کو نکال سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
مدت پوری ہونے کے بعد عمر کا زبردستی رہنا ظلم ہے، اس لیے کسی مضبوط آدمی کو اجرت دے کر عمر کو بے دخل کرنا درست ہے، کسی خاص جائز معلوم کام پر کسی کو اجیر رکھنا شرعاً جائز ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2213
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2213